
ایک وقت تھا جب آل انڈیا ریڈیو کی آوازیں کھیتوں سے گھروں اور دفاتر تک گونجتی تھیں۔ تب ایسا لگتا تھا جیسے سارا ملک موسیقی کی دھنوں پر جھوم رہا ہو۔ جب کوئی خبر یا پیغام نشر کیا جاتا تھا تو یہ خیال کیا جاتا تھا کہ پیغامات کے ذریعے ملک کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو نے اپنے اب تک کے سفر میں خبریں اور معلومات فراہم کی ہیں۔ اس نے قوم کو بحران کے لمحات میں بھی خبردار کیا ہے۔ زراعت اور تعلیم سے متعلق اہم اور مفید معلومات بھی فراہم کی ہیں اور لوگوں کی تفریح بھی کی ہے۔ اپنی آسان دستیابی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے، آل انڈیا ریڈیو کے سُرملک کے ہر طبقے، ہر دور کے لیے سجتے ر ہے ہیں۔
آل انڈیا ریڈیو 8 جون 1936 سے اپنے قیام کے بعد سے ہی قوم کے دل کی دھڑکن رہا ہے۔ وہی آل انڈیا ریڈیو 8 جون, 2026 کو اپنے شاندار سفر کے 90 سال مکمل کرنے جارہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آکاش وانی 90 سال کا ہمارا ہمسفر ہے۔ اس اہم موقع پر ہندوستھان سماچار نے آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل راجیو کمار جین کے ساتھ خصوصی گفتگو کی۔ سنجیو کمار کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی اہم جھلکیاں پیش ہیں۔
آل انڈیا ریڈیو کے 90 سال کے شاندار سفر کے لیے آپ کو مبارکباد۔ آل انڈیا ریڈیو نے اب تک کئی سنگ میل مکمل کیے ہیں۔ اس موقع پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟
ڈائریکٹرجنرل-آپ کو بھی مبارک ہو۔ ہمارے پروگرام پروڈیوسروں، تکنیکی ماہرین اور انجینئروں سمیت اے آئی آر سے وابستہ ہر شخص نے اے آئی آر کو اس مقام تک لے جانے میں اپنا تعاون دیا ہے، لیکن چاہے وہ انجینئر ہوں یا ہمارے باصلاحیت اور اہل پروگرامر یا تکنیکی ماہرین۔ انہوں نے اپنی پوری طاقت ملک کو معلومات سے مالا مال بنانے، قوم کی تفریح کرنے، دنیا کو ہماری موسیقی، ہمارے فنون لطیفہ جیسے گانوں اور نغموں سے متعارف کرانے میں صرف کی ہے۔ انہوں نے یہ سب ملک کے لیے، ملک کے لوگوں کے لیے کیا، اس لیے آل انڈیا ریڈیو کے 90 سال کا یہ سفر آل انڈیا ریڈیو یا پرسار بھارتی یا اس کے عملے کے عہدیداروں، تکنیکی ماہرین اور پروگرام سازوں کے لیے محض فخر کا لمحہ نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کے لیے فخر کی بات ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ملک کے لوگ بھی آل انڈیا ریڈیو کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ اسے پسند کیا جاتا ہے اور سراہا جاتا ہے۔ لوگوں کی محبت کی وجہ سے ہی ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔
آل انڈیا ریڈیو کے 90 سال کے سفر کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
ڈائریکٹرجنرل-نوے سال پہلے جب ریڈیو ہندوستانی منظر نامے پر 'آل انڈیا ریڈیو' کے طور پر آیا تو یہ اس وقت ایک نیا میڈیم تھا۔ جب اسے 8 جون 1936 پر قائم کیا گیا تو اسے 'آل انڈیا ریڈیو' کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 1956 میں پنڈت نریندر شرما کی تجویز پر اس کا نام 'آکاش وانی' رکھا گیا۔ جب آل انڈیا ریڈیو کی بنیاد رکھی گئی تھی، تب اخبارات نہ تو اتنے چمکدار تھے جتنے آج ہیں اور نہ ہی ان کی طباعت اتنی سنسنی خیز تھی جتنی آج ہے۔ ایسی صورتحال میں بنیادی طور پر تکنیکی ریڈیو میڈیم کی آمد سب سے پہلے لوگوں کے لیے تجسس کا باعث بن گئی۔ جب یہ ملک کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کے گھروں، دفاتر، کھیتوں، باغات تک پہنچنے لگا تو لوگوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ پہلے ریڈیو کے ذریعے معلومات اور خبریں دی جاتی تھیں لیکن آہستہ آہستہ گانے، موسیقی اور ڈرامے جیسے پروگرام ریڈیو پر نشر کیے جانے لگے۔ ابتدا میں ریڈیو سیٹ بڑے تھے، اس لیے ہر ایک کے لیے ان کا خرچ اٹھانا مشکل تھا۔ ابتدا میں ریڈیو پر لائسنس فیس بھی ہوتی تھی۔ ابتدا میں ریڈیو براڈکاسٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی ٹیکنالوجی پیچیدہ تھی۔ تاہم، چونکہ میڈیم نیا، نیا اور چمتکاری تھا، اس لیے اس نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کیا۔ پھر آہستہ آہستہ براڈکاسٹنگ اور رسیور ٹیکنالوجی میں بہتری آئی، سستے ٹرانجسٹر لوگوں تک پہنچے، آل انڈیا ریڈیو کو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ جلد ہی ریڈیو ملک کے دل کی دھڑکن بن گیا۔
آل انڈیا ریڈیو پر گانوں سے لے کر خبروں تک بہت سی نشریات ہوتی ہیں۔ ان کی نشریات اور ان کے انتخاب کے حوالے سے کیا پالیسی ہے؟
ڈائریکٹرجنرل-اے آئی آر کا مقصد 'بہوجن ہتائے، بہوجن سکھائے' ہے۔ یعنی زیادہ سے زیادہ لوگوں کے فائدے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی خوشی کے لیے۔ اے آئی آر کا مقصد معاشرے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے مفادات اور خوشی کو ذہن میں رکھتے ہوئے نشر کرنا ہے۔ موسیقی کا پروگرام ہو یا خبر، ہر چیز کے پیچھے ایک ہی خیال کام کرتا ہے۔ جہاں تک خبروں کا تعلق ہے، آل انڈیا ریڈیو کا مقصد جلد بازی میں غلط خبریں دینے کے بجائے درست اور سچی خبریں نشر کرنا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جسے ہم خبروں کا انتخاب کرتے وقت ہمیشہ ذہن میں رکھتے ہیں۔ جب تک خبر کی تصدیق نہیں ہو جاتی، اے آئی آر اسے نشر نہیں کرتا۔ اعتبار ہماری ساکھ ہے۔ ویسے ہر نشریات میں بھی ہم اس حقیقت کا خیال رکھتے ہیں۔
آج ہم انٹرنیٹ کے دور میں ہیں۔ آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ مواصلاتی ذرائع ترقی کر رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں اے آئی آر اپنی معنویت برقرار رکھنے کے لیے کیا کر رہا ہے؟
ڈائریکٹر جنرل-چونکہ ریڈیو ایک آسان ذریعہ ہے، اس لیے معلومات کو فوری طور پر دور دراز مقامات پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ لہذا، آج بھی، یہ کسی ہنگامی صورت حال میں سب سے زیادہ آسان ذریعہ ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ یہی آل انڈیا ریڈیو کی طاقت ہے۔ آج انٹرنیٹ کاغلبہ ہے۔ آج ہر ذریعہ یعنی اخبار، ریڈیو اور ٹی وی انٹرنیٹ پر کنورجنس کے ذریعے دستیاب ہے۔ جب بھی ہم ریڈیو کا ذکر کرتے ہیں، ہمارے سامنے جو تصویر ابھرتی ہے وہ صرف آواز کے ذریعے کی ہوتی ہے۔ آل انڈیا ریڈیو اب بھی روایتی ٹیکنالوجی پر ریڈیو سیٹوں کے ذریعے دستیاب ہے، لیکن مواصلاتی ذرائع کی بتدریج ترقی کے ساتھ، یہ نئی شکلوں میں بھی دستیاب ہے۔ اب آل انڈیا ریڈیو بھی پوڈ کاسٹ کر رہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر دستیاب ہے۔ روایتی آڈیو میڈیم کے طور پر دستیاب ہونے کے علاوہ، سوشل میڈیا اکاو نٹس جیسے ٹویٹر، فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ یوٹیوب پر ہمارے چینل بھی کام کر رہے ہیں۔ ہر جگہ ریڈیو نشر کیا جا رہا ہے۔ یقینا، یہ تمام نشریات روایتی نشریات جیسی نہیں ہیں، لیکن وہ مختلف نہیں ہیں۔ روایتی نشریات میں، ایک بار جب کوئی شخص کسی خبر یا معلومات یا دیگر پیغام سے محروم ہو جاتا ہے، تو اس کے لیے اسے دوبارہ سننا مشکل ہوتا ہے، لیکن انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے عروج کے ساتھ، مقررہ وقت پر نشر ہونے والی خبریں اور پروگرام بعد میں سنے جا سکتے ہیں۔ اب آپ ہمارے نیوز آن ایئر ایپ پر آل انڈیا ریڈیو کے تقریبا تمام چینلز سن سکتے ہیں۔ آج آل انڈیا ریڈیو ملک کی 23 زبانوں اور 183 بولیوں میں مسلسل نشر کر رہا ہے۔ اسے ایکسٹرنل سروس ڈویژن کے ذریعے 16 غیر ملکی اور 11 ہندوستانی زبانوں میں بھی نشر کیا جاتا ہے۔
ادارے کے سربراہ کے طور پر، بدلتے وقت میں اے آئی آر کو آگے لے جانے کے آپ کے کیا منصوبے ہیں؟
ڈائریکٹر جنرل-ہم ایف ایم نیٹ ورک کو بڑھانے، اسٹوڈیوز کو جدید بنانے اور وسائل کا مناسب استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال ایک اہم پہل میں ریڈیو اسٹیشنوں کو علاقائی چینلز کے طور پر دوبارہ منظم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی چینل کے سربراہوں کو انتظامی اور مالی اختیارات دیے گئے ہیں۔ اس اہم پہل کے ذریعے انتظامی اور مالی اختیارات کو غیرمرتکز کر دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ریڈیو اسٹیشنوں کو مقامی ضروریات کے مطابق پروگرام تیار کرنے کے لیے زیادہ خود مختاری دینا ہے، تاکہ علاقائی چینل مقامی خواہشات و ضروریات کو پورا کر سکیں اور مالی طور پر زیادہ قابل عمل بن سکیں۔ اس کے علاوہ، آل انڈیا ریڈیو کے پاس آڈیو کا ایک بہت ہی بھرپور مجموعہ ہے، جس میں کئی مشہور فنکاروں کی موسیقی کی ریکارڈنگ، اہم لوگوں کے انٹرویو اور ملک کے اہم واقعات پر تبصرے شامل ہیں۔ پورے مجموعے کو ڈیجیٹائز کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی اسے یوٹیوب، ویب اور او ٹی ٹی کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جائے گا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی