اسرائیل میں چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ اور یادگار تعمیر ہوگی ، بھارت۔اسرائیل ثقافتی تعلقات کو ملے گی نئی مضبوطی
شیواجی مہاراج پر کتاب کا عبرانی زبان میں ترجمہ کرنے پر غور ،منصوبے کو وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی حمایت حاصلنئی دہلی ، 7 جون (ہ س)۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان ثقافتی اور سفارتی تعلقات کو جلد ہی نئی تقویت ملنے جا رہی ہے۔ اسرائیل میں چھترپتی شی
INTERNATIONAL MAHA SHIVAJI MAHARAJ


شیواجی مہاراج پر کتاب کا عبرانی زبان میں ترجمہ کرنے پر غور ،منصوبے کو وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی حمایت حاصلنئی دہلی ، 7 جون (ہ س)۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان ثقافتی اور سفارتی تعلقات کو جلد ہی نئی تقویت ملنے جا رہی ہے۔ اسرائیل میں چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ اور ایک یادگار تعمیر کی جائے گی، جسے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور باہمی تعاون کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔اسرائیل کے قونصل جنرل یانیو ریواخ نے کہا کہ یہ اقدام بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ محض ایک ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ خیرسگالی کو فروغ دینے والا ایسا اقدام ہے جو دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دوستی، تحریک اور تعاون کی مستقل علامت بنے گا۔یانیو ریواخ نے بتایا کہ گزشتہ فروری میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے کے بعد اس بڑے منصوبے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس تصور سے متعلق معلومات وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے دفتر کو بھی فراہم کی گئیں، جہاں فوری ملاقات کا وقت دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فڑنویس نے اس منصوبے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔اسرائیلی سفارت کار نے کہا کہ بھارت کی تاریخ انہیں بے حد متاثر کرتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت اور اسرائیل دونوں ممالک کی جدوجہد، آزادی اور قوم سازی کی داستانوں میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ اسی سوچ کے تحت اس ثقافتی منصوبے کا تصور سامنے آیا، جس کے تحت اسرائیل میں چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ نصب کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ شیواجی مہاراج پر لکھی گئی ایک کتاب کا عبرانی زبان میں ترجمہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ اسرائیل کے عوام ان کی فکر، قیادت اور خدمات کے بارے میں بہتر انداز میں جان سکیں۔اسرائیلی انتظامیہ اس منصوبے کو صرف مجسمے تک محدود نہیں رکھنا چاہتی۔ منصوبے کے تحت ایک معروف مجسمہ ساز کے ذریعے مجسمہ تیار کرایا جائے گا اور اسے اسرائیل کے کسی اہم مقام پر نصب کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی، کارناموں اور نظریات کو اسرائیلی عوام تک پہنچانے کے لیے ان کی سوانح حیات یا متعلقہ کتابوں کا عبرانی زبان میں ترجمہ کرنے کے امکانات پر بھی غور جاری ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، زراعت اور اختراعات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ شراکت داری ثقافتی میدان میں بھی مزید مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے ثقافتی اقدامات دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande