
شملہ، 7 جون (ہ س)۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل آمبیکر نے کہا کہ طلباء نے ہمیشہ منفی حالات میں کام کرتے ہوئے ملک میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اپنے قیام سے ہی قومی مفاد میں طلبہ کو متحد کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ کئی مسائل جن کے بارے میں اے بی وی پی برسوں سے بیداری پیدا کر رہی ہے وہ اب حقیقت بن چکے ہیں۔ سنیل آمبیکر اتوار کو اے بی وی پی کے زیر اہتمام اسمرتی 2026 - سینئر ورکرس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
اے بی وی پی کی تحریکوں اور مطالبات کے بارے میں آمبیکر نے کہا کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا مطالبہ ایک طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا اور آج اسے ہٹا دیا گیا ہے۔ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہونے کے دہانے پر ہے اور شمال مشرقی ریاستوں بالخصوص میزورم میں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پریشد کے کام کا اثر سماجی زندگی کے مختلف شعبوں میں نظر آتا ہے۔ امرناتھ یاترا اور بالتل اراضی تحریک کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے آمبیکر نے کہا کہ جب سماج کسی مسئلہ پر متحد ہو جاتا ہے تو حل کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں جو تبدیلیاں نظر آرہی ہیں وہ کوئی حالیہ پیش رفت نہیں بلکہ معاشرے اور قوم پرست تنظیموں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ