
مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس کے باہر مندر کی دیوار منہدم
جموں، 05 جون (ہ س)۔ جموں کے تاریخی مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس کے باہر واقع تقریباً دو سو سال قدیم گدا دھر مندر کی ایک دیوار بارش کے بعد اچانک منہدم ہوگئی، جس کے بعد مقامی لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔گدا دھر مندر، بھگوان وشنو اور لکشمی کے نام سے منسوب ہے، مہاراجہ گلاب سنگھ کے دورِ حکومت میں انیسویں صدی کے وسط میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا انتظام دھرمارتھ ٹرسٹ کے زیرِ نگرانی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق دیوار گرنے سے محض 10 سے 20 منٹ قبل مندر میں بھنڈارا منعقد ہوا تھا۔ ایک مقامی شہری نے بتایا کہ اگر یہ حادثہ اس وقت پیش آتا جب عقیدت مند وہاں موجود تھے تو بڑا سانحہ رونما ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مندر کے باہر واقع تنگ گلی سے روزانہ بڑی تعداد میں مقامی لوگ، بچے اور بزرگ گزرتے ہیں۔ مقامی باشندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مبارک منڈی محل کمپلیکس کی طویل عرصے سے جاری بحالی اور تزئین و آرائش کے منصوبے کے تحت ہونے والی کھدائی، خصوصاً پارکنگ کی تعمیر کے لیے کی جانے والی گہری کھدائی، دیوار کے منہدم ہونے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تاریخی عمارتوں کے قریب جاری کھدائی کے طریقہ کار پر پہلے بھی اعتراضات اٹھائے گئے تھے لیکن متعلقہ حکام نے ان پر توجہ نہیں دی۔واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دیوار گرنے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی جانچ کرائی جائے اور علاقے کو محفوظ بنایا جائے تاکہ مزید نقصان یا کسی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔
مقامی افراد نے بحالی منصوبے سے وابستہ اداروں پر غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مٹی کے معائنے اور عمارت کی مضبوطی کا جائزہ لیے بغیر گہری کھدائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آیا مندر کی پرانی دیواریں اس کھدائی کے اثرات برداشت کر سکتی ہیں یا نہیں۔ واضح رہے کہ ڈوگرہ حکمرانوں کی سابق شاہی رہائش گاہ مبارک منڈی کمپلیکس میں کئی برسوں سے تحفظ اور بحالی کا کام جاری ہے تاکہ اس کی تاریخی اور معماری اہمیت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم مقامی افراد کے الزامات پر حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر