
شیئر مارکیٹ میں اآریٹ ٹریڈز کا مایوس کن آغاز، فلیٹ لسٹنگ کے بعد لوئر سرکٹ لگا
نئی دہلی،5 جون (ہ س)۔ کیمیائی تجارتی کمپنی آریٹ ٹریڈ کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں فلیٹ انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 70 روپے کی قیمت کی سطح پر جاری کیے گئے تھے۔ آج بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ بغیر کسی اتار چڑھاؤ کے 70 روپے کی سطح پر تھی۔ لسٹنگ کے بعد، فروخت کے دباو کی وجہ سے اسٹاک تھوڑے ہی عرصے میں 66.5 روپے کی نچلی سرکٹ کی سطح پر گر گیا۔ اس طرح ٹریڈنگ کے پہلے ہی دن کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو پانچ فیصد کا نقصان ہوا۔
آریٹ ٹریڈ کا 27.29 کروڑ روپے کا آئی پی او 29 مئی اور 2 جون کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے ہلکا ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1.43 گنا سبسکرپشن حاصل ہوئی۔ ان میں سے غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو صرف 0.45 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 2.42 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے 38.98 لاکھ نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او کے ذریعے اکٹھا کی گئی رقم کمپنی اپنے دائمی قرض کے بوجھ کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔
کمپنی کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے، معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجود اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2022 سے 2023 میں، کمپنی کا خالص منافع 1.13 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2023 سے 2024 میں بڑھ کر 1.45 کروڑ روپے ہو گیا۔ اگلے مالی سال 2024 سے 2025 میں، کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 2.57 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025 سے 26 میں، اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کا خالص منافع 4.36 کروڑ روپے تھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی۔ مالی سال 22سے23 میں، اس نے 211.60 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 23سے24 میں کم ہو کر 172.19 کروڑ روپے رہ گئی اور مالی سال 24 سے 25 میں 176.62 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئی۔ گزشتہ مالی سال 2025 سے 26 میں، اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کو 102.79 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔
اس عرصے کے دوران معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجود کمپنی کا قرض بڑھتا رہا۔ مالی سال 22 سے 23 کے اختتام پر، کمپنی پر 22.73 کروڑ روپے کا قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 23 سے 24 میں بڑھ کر 32.46 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 24 سے 25 میں قدرے کم ہو کر 32.17 کروڑ روپے رہ گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025 سے 26 میں، اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کا قرض کا بوجھ بڑھ کر 38.07 کروڑ روپے کی سطح تک آ گیا تھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 22 سے2023 میں، یہ 5.10 کرور روپے کی سطح پر تھا، جو 2023 سے 2024 میں بڑھ کر 10.49 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، 2024سے2025 میں، کمپنی کے رزرو اور سرپلس کم ہو کر 12.85 کروڑ روپے رہ گئے۔ ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025 سے 26 میں اپریل سے لے کر 31 دسمبر 2025 تک یہ 8316 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ،ٹیکسزڈپریشئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2022 سے 2023 میں 8 لاکھ روپے کی سطح پر تھا، جو2023 سے 2024 میں بڑھ کر 3.25 کروڑ روپے ہو گیا۔ اگلے سال، 2024 سے25 میں، کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے کم ہو کر 5.07 کروڑ روپے رہ گیا۔ ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025 سے 26 میں اپریل سے لے کر 31 دسمبر 2025 تک یہ 73.33 کروڑ روپے کی سطح پر رہا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی