
حیدرآباد کی 250 کروڑ سال پرانی چٹانوں کو حیڈرا نے بچالیاحیدرآباد، 5 جون (ہ س)۔ عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پرحیڈرا نے شہرکے تاریخی اورقدرتی ورثے کے تحفظ کےلیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے گنڈی پیٹ منڈل کے پُپلہ گوڑہ اورخواجہ گوڑہ کی سرحد پرواقع تقریباً 200 ایکڑاراضی کو باڑ لگا کر محفوظ کردیا ہے۔ یہ علاقہ اپنی کروڑوں سال قدیم چٹانی ساختوں کی وجہ سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ چٹانیں تقریباً ڈھائی ارب سال پرانی ہیں اوردنیا کے قدیم ترین ارضیاتی ورثوں میں شمارکی جاتی ہیں۔ حیڈرا کے مطابق اس زمین کی موجودہ مالیت تقریباً 30 ہزارکروڑ روپے بتائی جارہی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ان تاریخی چٹانوں کے تحفظ کے لیے سوسائٹی ٹوسیوراکس” گزشتہ کئی دہائیوں سے جدوجہد کررہی ہے۔ تنظیم نے اس معاملے میں تلنگانہ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیاتھا، جس کے بعد سال 2019 میں عدالت نے میونسپل اورمحکمہ ریونیوکوان چٹانوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم حدود کے تعین اورباڑ بندی میں تاخیرکے باعث اس علاقے میں قبضوں کے مسائل پیداہوگئے تھے۔ بعد ازاں سوسائٹی کی درخواست پرحیڈرا نے ریونیو اورمیونسپل حکام کے ساتھ مشترکہ سروے کیا اورزمینی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد200 ایکڑ اراضی کو باقاعدہ طور پرمحفوظ بنانے کا فیصلہ کیا۔ حکام کے مطابق مختلف سروے نمبرات میں 119.05 ایکڑسرکاری اراضی موجود ہے۔ مجموعی طور پر293.05 ایکڑ زمین میں سے 263.05 ایکڑحیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی(حمڈا) کو الاٹ کی گئی تھی۔ تاہم دو دیہات کے درمیان حدودی تنازعہ کی وجہ سے تقریباً 63.05 ایکڑ اراضی پربیرونی افراد نے قبضہ کرلیا، جس کے بعد حمڈا کے پاس تقریباً 200 ایکڑ زمین باقی رہ گئی۔ اس کے علاوہ پانچ ایکڑ زمین مختلف مندروں اور مزید پانچ ایکڑ ایک درگاہ کے لیے مختص کی گئی ہے۔حیڈرا اس علاقے سے متصل بھاگیرتھماجھیل کوبھی ترقی دے رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جھیل کی ترقیاتی سرگرمیاں مکمل ہونے کے بعد یہ پوراعلاقہ حیدرآباد کے اہم سیاحتی مقامات میں شامل ہوسکتاہے،جہاں قدرتی حسن، تاریخی چٹانیں اورجھیل ایک منفرد منظرپیش کریں گے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ تیزی سے پھیلتے شہری علاقوں میں قدرتی ورثے کا تحفظ نہایت ضروری ہے اور یہ اقدام مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا۔
۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق