
80 صفحات پر مشتمل تحقیقی رپورٹ شولاپو میونسپل کارپوریشن کو پیش ، پونے اور شولاپو کے تقریباً 20 لاکھ شہریوں کی صحت پر تشویشممبئی ، 5 جون (ہ س)۔ سریشٹی ایکووژن فاؤنڈیشن کے ماحولیاتی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اُجنی ڈیم کا پانی سنگین نوعیت کی آلودگی کا شکار ہو چکا ہے اور اب پینے کے قابل نہیں رہا۔ اس سلسلے میں 80 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی رپورٹ شولاپو میونسپل کارپوریشن کو پیش کی گئی ہے، جس میں اُجنی ڈیم کا پانی استعمال کرنے والے پونے اور شولاپو اضلاع کے تقریباً 20 لاکھ شہریوں کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پونے میونسپل کارپوریشن اور پمپری۔چنچوڑ علاقے سے خارج ہونے والا بڑی مقدار کا گندہ پانی مولا۔مٹھا ندی کے ذریعے بھیما ندی میں شامل کیا جاتا ہے۔ اسی طرح نیرا ندی میں مختلف دیہاتوں کا سیوریج، مذبح خانوں کا فضلہ اور شوگر کارخانوں سے خارج ہونے والا آلودہ پانی شامل ہو رہا ہے، جو بالآخر اُجنی ڈیم تک پہنچتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں ڈیم کے پانی کا معیار مسلسل متاثر ہو رہا ہے۔تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پونے کے قریب واقع چاکن ایم آئی ڈی سی کے بعض صنعتی یونٹس سے بغیر صفائی کے کیمیائی فضلہ براہِ راست بھیما ندی میں چھوڑا جا رہا ہے۔ اسی طرح کرکمبھ ایم آئی ڈی سی کے بعض کارخانوں سے کیمیائی مادوں سے آلودہ پانی مناسب عمل کے بغیر ندی میں شامل کیا جا رہا ہے، جس سے آبی آلودگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس آلودہ پانی کے اثرات اُجنی ڈیم کے ذخیرۂ آب پر مرتب ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں سرطان سے متعلق خطرناک عناصر اور بعض مضر وائرسوں کی ممکنہ موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔یہ رپورٹ شولاپو میونسپل کارپوریشن کے متعلقہ حکام کو پیش کی گئی۔ اس موقع پر یشونت پاتھروٹ، ساگر اتنورے، ماحولیاتی تحفظ سرگرمیوں کے صوبائی بورڈ کے رکن پروین تلے اور سریشٹی ایکووژن فاؤنڈیشن کے دیگر اراکین موجود تھے۔دریں اثنا، یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ رپورٹ میں پیش کیے گئے نتائج اور دعوؤں کی متعلقہ سرکاری محکموں اور محکمہ صحت کی جانب سے باضابطہ جانچ اور تصدیق ضروری ہے تاکہ حقائق کی مکمل وضاحت ہو سکے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے