
حیدرآباد ، 5 جون (ہ س)۔ حیدرآباد اوراس کے اطراف کوراربن ریجن علاقہ میں زیرزمین پانی کی صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے۔ اضلاع حیدرآباد ، میڑچل ۔ ملکاجگیری اوررنگاریڈی میں زیرزمین پانی کی سطح میں بتدریج کمی ہورہی ہے کیوں کہ پانی کا استعمال ، ریچارج سے زیادہ ہے۔ ان حقائق کا انکشاف گراونڈ واٹرریسورسیس اسیسمنٹ رپورٹ 2025 میں کیا گیا جسے سنٹرل گراونڈواٹربورڈ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے ۔ شہرحیدرآباد اوراس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں’ بڑے کمرشیل کامپلکس ‘ ہمہ منزلہ عمارتوں اورسی سی سڑکوں کا بہت اضافہ ہواہے۔ اس کی وجہ بارش کا پانی زمین کے اندرجانے کے مواقع بہت کم ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ مٹی کی نوعیت سے بھی جہاں پہاڑاورچٹانوں کی پرتیں ہیں،بارش کا پانی زمین میں جانا مشکل ہوگیا ہے ۔ حیدرآباد ڈسٹرکٹ میں16 منڈلس ہیں جن میں آٹھ منڈلس زیرزمین پانی کے حد سے زیادہ استعمال کے زمرہ میں ہیں جہاں زیر زمین پانی کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کی صورتحال چارمینار،عنبر پیٹ،گولکنڈہ، آصف نگر،سعید آباد،خیریت آباد،امیرپیٹ اور حمایت نگر منڈلس میں دکھائی دیتی ہے ۔ مزید سات منڈلس کریٹیکل زمرہ میں ہیں ۔ ملک پیٹ ، بنڈلہ گوڑہ، بہادرپورہ،مشیرآباد،نامپلی ، شیخ پیٹ اورسکندرآباد منڈلس اس فہرست میں ہیں ۔ صرف ترملگیری منڈل سیمی ۔ کریٹیکل زمرہ میں ہے ۔ یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ ضلع میں کوئی بھی منڈل مکمل محفوظ حالت میں نہیں ہے ۔ میڑچل ۔ ملکاجگیری ڈسٹرکٹ کے 18 منڈلس میں چارمنڈلس پانی کے حد سے زیادہ استعمال کرنے کے زمرہ میں ہیں ۔ بالانگر،کوکٹ پلی، قطب اللہ پور اور ملکاجگیری منڈل میں زیر زمین پانی کا بہت زیادہ استعمال کرنے کو ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ چنتل ، کیسرا اور باچوپلی منڈلس تشویشناک زمرہ میں ہیں۔ الوال، میڑچل اورگھٹیکیسر منڈلس نیم تشویشناک زمرہ میں ہیں ۔ جب کہ مابقی منڈلس محفوظ حالت میں ہیں ۔رنگاریڈی ڈسٹرکٹ میں 27 منڈلس ہیں ۔ چودھرگوڑہ ،سیری لنگم پلی اور سرورنگرجیسے منڈلس پانی کے حد سے زیادہ استعمال کے زمرہ میں ہیں ۔ منڈلس جیسے آمنگل،ابراہیم پٹنم، یاچارم ،تالا کونڈہ پلی ، کتور،معین آباد،کندوکورواورراجندر نگرسیمی ۔ کریٹیکل زمرہ میں ہیں ۔ اگرچیکہ مابقی 14 منڈلس فی الوقت محفوظ ہیں تاہم ماہرین نے انتباہ دیا کہ اگر خصوصی اقدامات نہیں کئے گئے توان منڈلس میں مستقبل میں صورتحال خراب ہونے کا امکان ہے ۔ گراونڈ واٹرریچارج کے مقابل استعمال کی سطح کی بنیاد پرسنٹرل گراونڈواٹربورڈ نے علاقوں کی چارزمروں میں درجہ بندی کی ہے ۔۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق