
نئی دہلی، 5 جون (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ہندوستانی حکومت کی سیکورٹیز سے حاصل ہونے والے منافع اور آمدنی پر تمام ٹیکس ختم کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ملک کی سورین ڈیٹ مارکیٹ (خودمختار قرضہ بازار) کو عالمی سرمائے کے لیے مزید پرکشش بنانا ہے۔ یہ تبدیلیاں یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔
مرکزی حکومت نے غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی ) کی جانب سے سرکاری سیکورٹیز (جی-سیک) میں کی جانے والی سرمایہ کاری پر طویل مدتی کیپٹل گینس ٹیکس (ایل ٹی سی جی ) کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس حوالے سے آرڈیننس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ملک میں ڈالر کے بہاؤ کو بڑھانا ہے۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری سیکورٹیز (جی-سیک) سے غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی ) کو سود کی آمدنی اور کیپٹل گین (منافع) پر ٹیکس سے مکمل چھوٹ دی ہے۔ اس کے لیے حکومت ہند 'انکم ٹیکس (ترمیمی) آرڈیننس، 2026' لے کر آئی ہے، جو 5 جون کو جاری کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ یکم اپریل سے نافذ العمل تصور کیا جائے گا۔
مرکزی خزانہ اور کارپوریٹ امور کی وزیر نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2026-27 کے مرکزی بجٹ میں اعلان کیا کہہندوستان کے باہر رہنے والے افراد (پی آر او آئی ) کو پورٹ فولیو انویسٹمنٹ اسکیم کے ذریعے لسٹڈ ہندوستانی کمپنیوں کی ایکویٹی سیکورٹیز میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ اسکیم پہلے صرف این آر آئی /او سی آئی کے لیے دستیاب تھی۔ وزارت کے مطابق، اس آرڈیننس کے ذریعے انکم ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کرکے یہ چھوٹ فراہم کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے طویل مدتی اور مستحکم سرمائے کو راغب کرنے کے لیے سرکاری سیکورٹیز پر کیپیٹل گین ٹیکس کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ ان ذرائع کی مدت طویل ہوتی ہے۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اس سال اب تک گھریلو شیئر مارکیٹ سے ₹2.6 لاکھ کروڑ روپے کا بڑا انخلا کیا ہے، جو کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے 2025 میں نکالے گئے ₹1.66 لاکھ کروڑ روپے سے کہیں زیادہ ہے۔ صرف جون کے پہلے تین دنوں میں، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے شیئروں سے تقریباً 34,000 کروڑ روپے نکال لیے، جس سے روپے پر اضافی دباؤ پڑا۔
تاہم، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مکمل رسائی کے راستے (ایف اے آر)کے تحت قرض بازار میں 17,000 کروڑ روپےسے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سال اب تک، انہوں نے عام قرض کی حد کے تحت تقریباً ₹4,000 کروڑ روپے اور رضاکارانہ برقراری کے راستے (وی آر آر) کے ذریعے ₹340 کروڑ روپے نکالے ہیں۔ ایف آئی آئی فی الحال ایکویٹی اور قرض کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع پر 12.5فیصد کی شرح سے طویل مدتی کیپٹل گین ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ریزرو بینک نے الگ سے کچھ طویل مدتی خودمختار بانڈز کو مکمل طور پر قابل رسائی زمرے میں شامل کرنے کی اجازت دی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بغیر کسی حد کے ان میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس راستے کے تحت دستیاب سرکاری سیکورٹیز کی فہرست میں آخری بار 2024 میں نظر ثانی کی گئی تھی جب مرکزی بینک نے 14 سالہ اور 30 سالہ بانڈز کو ہٹا دیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے بڑھتی ہوئی خام تیل کی درآمدی لاگت کے درمیان گزشتہ ماہ عوام سےغیر ملکی کرنسی کو بچانے کی اپیل کی تھی ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد