
مظفر پور، 5 جون (ہ س)۔
بہار کے مظفر پور شہر میں واقع پرساد اسپتال میں آتشزدگی کے معاملے میں پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار کیے گئے لوگوں میں اسپتال کا مینٹیننس ہیڈ، ایڈمن آفیسر اور آئی سی یو میں ڈیوٹی پر تعینات ایک ڈاکٹر شامل ہیں۔ پولیس کا الزام ہے کہ ان کی لاپرواہی کی وجہ سے حادثے میں کئی لوگوں کی جان گئی۔
سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سٹی ایس پی) محب اللہ انصاری نے جمعہ کو بتایا کہ اس معاملے میں برہم پورہ تھانے میں کیس نمبر 177/26 درج کیا گیا ہے۔ یہ ایف آئی آر سب ڈویژنل فائر آفیشل کی درخواست پر درج کی گئی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ مختلف پہلووں سے جانچ کر رہے ہیں۔
سٹی ایس پی کے مطابق، حادثے میں جمعہ کو ایک اور شخص کی موت ہو گئی، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر چھ ہو گئی ہے۔ پولیس نے معاملے میں اب تک تین ملزمین کو گرفتار کیا ہے اور انہیں عدالت کے حکم پر عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس کی ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسپتال میں سیکورٹی کے معیارات اور ہنگامی انتظامات کو لے کر سنگین لاپرواہی برتی گئی ہو سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر اسپتال کے مینٹیننس ڈپارٹمنٹ، انتظامی مینیجمنٹ اور آئی سی یو کے آپریشن سے وابستہ ذمہ دار حکام کے کردار کی جانچ کی گئی، جس کے بعد گرفتاری کی کارروائی عمل میں آئی۔
سٹی ایس پی نے بتایا کہ اسپتال کے ڈائریکٹر کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ عمارت کا فائر آڈٹ کرایا جا رہا ہے، تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ اسپتال میں آگ سے بچاو کے انتظامات مقررہ معیارات کے مطابق تھے یا نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ ماضی میں کیے گئے فائر آڈٹ اور معائنے صحیح طریقے سے ہوئے تھے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر جانچ میں اسپتال انتظامیہ، عمارت کے مالک یا دیگر ذمہ دار افراد کی لاپرواہی سامنے آتی ہے تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر اسپتال کے مالک کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ پرساد اسپتال میں آگ لگنے کے واقعے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حادثے کے بعد اسپتالوں میں فائر سیکورٹی کے معیارات پر عمل درآمد کو لے کر بھی سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ انتظامیہ نے معاملے کی تفصیلی جانچ کے احکامات دیے ہیں اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
فی الحال پولیس، فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں حادثے کی وجوہات کی جانچ میں مصروف ہیں۔ جانچ رپورٹ آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ لگنے کے پیچھے تکنیکی خرابی، سیکورٹی معیارات کی ان دیکھی یا کسی اور قسم کی لاپرواہی ذمہ دار تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن