
پٹنہ، 5 جون (ہ س)۔
دارالحکومت پٹنہ میں معروف استاد اور کوچنگ سنٹر کے مالک خان سر کی مشکلات بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ کدم کنواں تھانے میں ان کے خلاف اقدامِ قتل اور اسلحہ ایکٹ (آرمز ایکٹ) سے متعلق دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے کے بعد اس پورے واقعے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور جانچ ایجنسیاں معاملے کی تفصیلی چھان بین میں مصروف ہو گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، یہ معاملہ خان سر کے سیکورٹی گارڈز کے بیان کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔ گارڈز نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ انہیں گولی چلانے کے لیے کہا گیا تھا اور یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ آگے کی صورتِ حال سنبھال لی جائے گی۔ اسی بیان کی بنیاد پر پولیس نے خان سر کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 109 سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ کے دوران ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں خان سر کے کوچنگ سنٹر کے باہر سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کیے جانے کے اشارے ملے ہیں۔ ویڈیو اور دیگر شواہد کی تصدیق کے بعد پولیس نے دونوں گارڈز کے کردار کی بھی جانچ شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق، ابتدائی جانچ میں ہوائی فائرنگ کی تصدیق ہونے کے بعد قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس دوران امن و امان کی صورتِ حال کو لے کر پولیس ہیڈ کوارٹر اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) کے دفتر کی سطح پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بھی منعقد کی گئی۔ میٹنگ میں پورے معاملے کا جائزہ لیا گیا اور صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پولیس نے طلبہ اور عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہ یا گمراہ کن معلومات پر دھیان نہ دیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا تعاون کریں۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد خان سر کی جانب سے بھی قانونی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔ معلومات کے مطابق، ان کے وکیل کوچنگ انسٹی ٹیوٹ پہنچے اور کیس سے متعلق دستاویزات کا مطالعہ کیا۔ تاہم، اس معاملے میں خان سر یا ان کے نمائندوں کی طرف سے کوئی باقاعدہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 2 جون کو خان سر نے خود کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے باہر فائرنگ ہونے کا الزام لگایا تھا۔ حالانکہ بعد میں انہوں نے اپنے بیان میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوچنگ کے باہر کچھ لوگوں نے بینر اور پوسٹر پھاڑے اور مار پیٹ کا واقعہ انجام دیا۔ اس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گیان بندو کوچنگ کے ڈائریکٹر روشن آنند سمیت تین لوگوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ فی الحال پولیس پورے معاملے کی مختلف پہلووں سے جانچ کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد، ویڈیو فوٹیج، چشم دیدوں کے بیانات اور دیگر تکنیکی ثبوتوں کی بنیاد پر آگے کی کارروائی کی جائے گی۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پولیس کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تمام حقائق کی باریکی سے جانچ کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن