
ممبئی، 5 جون (ہ س)۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے جمعہ کو کہا کہ ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 682.3 بلین ڈالر کی مضبوط سطح پر ہیں، جو کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان تقریباً 11 ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔
آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے جمعہ کو یہاں موجودہ مالی سال کی دوسری دو ماہی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی تین روزہ جائزہ میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مختلف پالیسی اقدامات سے ادائیگیوں کے توازن کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ حالیہ معاہدے، انشورنس کے شعبے میں 100 فیصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف دی آئی) کی اجازت، ایتھنول مکسچر پروگرام، توانائی کی منتقلی کو فروغ دینا، پڑوسی ممالک کے لیے ایف ڈی آئی کے اصولوں میں نرمی، بیرونی تجارتی قرضے (ای سی بی) فریم ورک کو آزاد کرنا اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 29 مئی 2026 تک 682.3 ارب ڈالر کی مضبوط سطح پر تھے، جو کہ تقریباً 11 ماہ کی درآمدات اور بیرونی قرض (89.1فیصد) جیسے ریزرو کی مناسبیت کے پیرامیٹرز کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ آر بی آئی کے گورنر نے کہا کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بیرونی جھٹکوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر موثر کارروائی کرنے کے لیے ہمارے پاس متعدد ریگولیٹری اور مارکیٹ پر مبنی ٹولز موجود ہیں۔ اس سلسلے میں، ہم چوکس رہتے ہیں اور بازار کے منظم حالات کو برقرار رکھنے کے لیے جو بھی ضروری ہو وہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
سنجے ملہوترا نے کہا کہ مرکزی بینک معیشت کی پیداواری ضروریات کو پورا کرنے اور مانیٹری پالیسی کی موثر ترسیل کے لیے بینکاری نظام میں مناسب نقدی کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 2025سے2626 میں عالمی اقتصادی بحران کے درمیان اعلیٰ ٹیرف اور تجارت سے متعلق غیر یقینی صورتحال کاکامیابی کے ساتھ سامنا کیا۔ گورنر نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور تجارتی پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال مالی سال 2026سے27 20میں ہندوستان کے کرنٹ اکاو¿نٹ کے خسارے کے بڑھنے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدمات کی تجارت میں سرپلس اور بیرون ملک سے ترسیلات زر سے کچھ ریلیف ملے گا۔
اس سال 27 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 728.49 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے، لیکن مغربی ایشیائی تنازعہ شروع ہونے کے بعد کئی ہفتوں تک اس میں کمی واقع ہوئی۔ اس سے روپے پر دباو پڑا اور ریزرو بینک آف انڈیا کو ڈالر بیچ کر فارن ایکسچینج مارکیٹ میں مداخلت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی