
نئی دہلی،04جون(ہ س)۔مشاعرہ اردو تہذیب و ثقافت کی ایک اہم اور زندہ روایت ہے جو صدیوں سے زبان و ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتی آ رہی ہے۔ یہ محض شعری کلام سنانے کی محفل نہیں بلکہ ادب، فکر، تخلیق اور اظہارِ احساسات کا ایک خوبصورت سنگم ہے۔ مشاعرے کے ذریعے شعراءاپنے خیالات، جذبات اور مشاہدات کو سامعین تک پہنچاتے ہیں، جبکہ سامعین کو مختلف ادبی و فکری جہات سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔
اردو اکادمی، دہلی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے وقتاً فوقتاً مختلف النوع ادبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک منفرد اور خوش آئند پیش رفت کے طور پر اردو اکادمی، دہلی نے اس بار ایک بالکل نئے اور اچھوتے موضوع ”صحافیوں کی ایک شام: شاعری کے نام“ کا انتخاب کیا۔ دہلی حکومت کے محکمہ فن، ثقافت و السنہ کے تحت اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی یہ خصوصی ادبی و شعری نشست قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم، اردو اکادمی، دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، طلبا اور اردو زبان و ادب کے شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس مشاعرے کی صدارت روزنامہ انقلاب کے سابق مدیر اور ممتاز صحافی جناب شکیل حسن شمسی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر جناب معین شاداب نے اپنے منفرد اور دلنشیں انداز میں انجام دیے۔ انھوں نے پوری نشست کو ابتدا سے انتہا تک نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ مربوط اور پ±راثر بنائے رکھا۔پروگرام کا آغاز نہایت پ±روقار انداز میں ہوا۔ صدرِ مشاعرہ، ناظمِ مشاعرہ اور تمام شعرائے کرام نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے محفل کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس کے بعد اردو اکادمی کے سینئر کارکنان محمد ہارون اور عزیر حسن قدوسی نے صدرِ مشاعرہ کو پودا پیش کرکے ان کا خیرمقدم کیا۔
تقریب کے آغاز میں اردو کے نامور شاعر جناب بشیر بدر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی گراں قدر ادبی خدمات کو ان کی منتخب شاعری کے حوالے سے یاد کیا گیا۔مشاعرے کی افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیع ایوب نے اردو اور ہندی صحافت و ادب کی مشترکہ اور تابناک روایت پر سیر حاصل اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں زبانوں کی ادبی صحافت کے اس حسین امتزاج کو ایک ایسے طلوع ہوتے سورج سے تشبیہ دی جس کی روشنی میں سچائی کو زیادہ واضح انداز میں دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اردو اکادمی، دہلی کی علمی، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکادمی کی یہ کاوشیں نہ صرف قابلِ ستائش ہیں بلکہ ملک کی دیگر ادبی و ثقافتی اکادمیوں کے لیے بھی مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ناظمِ مشاعرہ جناب معین شاداب نے اپنے خطاب میں صحافت اور شاعری کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے صحافت کو ”عجلت میں لکھا ہوا ادب“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافت اور ادب کا رشتہ ہمیشہ سے مضبوط اور ناگزیر رہا ہے۔ بالخصوص اردو صحافت کی روایت میں صحافی اپنے اخبار یا ادارے کے نظریے اور موقف کو مو¿ثر انداز میں پیش کرنے کے لیے شاعری سے بھرپور استفادہ کرتا رہا ہے، جس کے باعث صحافت اور شاعری ایک دوسرے کی معاون اور ہم سفر بن گئی ہیں۔اس موقع پر دہلی کے ممتاز صحافی شعراءنے اپنے منتخب کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں شکیل حسن شمسی، سلیم شیرازی، تحسین منور، معین شاداب، ڈاکٹر شفیع ایوب، خصال مہدی، ارشد ندیم، ضمیر ہاشمی، امیر امروہوی، ڈاکٹر فرمان چودھری، نعیم ہندوستانی، ڈاکٹر شعیب رضا فاطمی، رامش رو¿ف،،ڈاکٹر منورحسن کمال، انجم جعفری اور مبارک قاسمی وغیرہ نے شرکت کی اور اپنے کلام میں عصری مسائل، انسانی اقدار، سماجی رویّوں اور صحافتی تجربات کو نہایت موثر انداز میں پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔
پروگرام کے اختتام پر اردو اکادمی، دہلی کے اسسٹنٹ پبلی کیشن ا?فیسر محمد ہارون نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے دہلی حکومت کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا اور وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ جناب کپل مشرا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سرپرستی، تعاون اور اردو زبان و ادب سے وابستگی کے نتیجے میں ایسے معیاری ادبی پروگراموں کا انعقاد ممکن ہو پا رہا ہے۔ انہوں نے مشاعرے میں شریک تمام مہمانانِ گرامی، شعرائے کرام، دانشوروں، طلبا اور سامعین کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جن کی بھرپور شرکت نے اس ادبی نشست کو یادگار اور کامیاب بنا دیا۔قارئین کے ذوق و شوق کی تسکین کے لیے مشاعرہ میں پیش کیے گئے منتخب اشعار پیش خدمت ہیں:
یہ تم کہاں ضمیر فروشی کو آگئے ہو
اس شہر میں تو اچھے خریدار بھی نہیں
(شکیل حسن شمسی)
سوچتا ہوں بچوں کو کیا جواب میں بھیجوں
شاہ سرخیاں لکھوں اور جیب خالی ہے
(سلیم شیرازی)
ملیں گے کیسے کہاں بارشوں کے موسم میں
پرندے شوق میں فکرِ وصال کرتے ہیں
منور حسن کمال
تمھارے عشق میں برباد زندگی کے سوا
ملا بھی کیا ہے ہمیںخود ذہنی کے سوا
(ارشد ندیم)
گھر تو کیا شہر ہم بسا لیں گے
خالی آنکھوں میں خواب رہنے دے
(ڈاکٹر شفیع ایوب)
ساقی کی ا?نکھوں میں مجبوری دیکھی اور اٹھ ا?یا
تشنہ بھی تھا، خواہش بھی تھی،جام لبوں تک ا?یا بھی
(شعیب رضا فاطمی)
صحافیوں کو کہاں حال دل سنا بیٹھے
ذرا سی بات کئی زاویوں سے لکھیں گے
(معین شاداب)
چاہے بچھا کر چٹنی روٹی کھا لینا
اردو کا اخبار بہت ضروری ہے
(تحسین منور)
میکدہ بھی ہے حرم بھی صنم خانہ بھی
دیکھنا یہ ہے کہ دیوانہ کدھر جائے گا
(امیر امروہوی)
یہ دنیا ان کے ہی دم سے ہے قائم
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
(رو¿ف رامش)
پیام دیتا ہے قرآں ، نشے سے دور رہو
نشہ ہے موت کا ساماں نشے سے دور رہو
(انجم جعفری)
اک جہاں ایسا بھی اب آباد ہونا چاہئے
اپنا اپنا گھر ہو سب کا بے مکاں کوئی نہ ہو
(ڈاکٹر فرمان چودھری)
پہلوئے خواب سے شاید کوئی غم خوار اٹھے
ہم یہی سوچ کے کل رات کئی بار اٹھے
(خصال مہدی)
غم یہ نہیں کہ جہل نے دستار چھین لی
افسوس یہ ہے دو لت کردار چھین لی
مبارک قاسمی
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais