بہار میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جبر پر خاموشی ناقابلِ قبول، سیکولر جماعتیں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں
صرف انتخابات کے دوران اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنا اور بعد ازاں انہیں فراموش کر دینا ایک ایسی روش ہے جس نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مولانا سید طارق انورنئی دہلی،04 جون(ہ س)۔بہار کی موجودہ سیاسی صورتِ حال نہایت تشویش ناک رخ اختیار کرتی جار
بہار میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جبر پر خاموشی ناقابلِ قبول، سیکولر جماعتیں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں


صرف انتخابات کے دوران اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنا اور بعد ازاں انہیں فراموش کر دینا ایک ایسی روش ہے جس نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مولانا سید طارق انورنئی دہلی،04 جون(ہ س)۔بہار کی موجودہ سیاسی صورتِ حال نہایت تشویش ناک رخ اختیار کرتی جارہی ہے۔ ریاست کے مسلمان، دلت، پسماندہ طبقات اور دیگر کمزور طبقے جس بے چینی، عدم تحفظ اور سیاسی بے وزنی کا شکار ہیں، اس نے جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے ہر حساس شہری کو فکر مند کر دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک طرف حکمراں حلقوں کی جانب سے اقلیتوں کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے، تو دوسری جانب وہ سیاسی جماعتیں بھی اپنی تاریخی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتی دکھائی دیتی ہیں جو خود کو سیکولر سیاست اور سماجی انصاف کی علمبردار قرار دیتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار نوجوان دانشور،سیاسی تجزیہ کاراور سماجی مفکر مولانا سید طارق انور نے اخبارات کو جاری اپنے بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ جمہوری نظام، آئینِ ہند اور سیکولر سیاسی قوتوں پر اعتماد کیا ہے۔ مسلمانوں نے ہر مشکل دور میں ان جماعتوں کا ساتھ دیا جو مذہبی ہم آہنگی، سماجی مساوات اور آئینی حقوق کے تحفظ کی داعی رہی ہیں۔ لیکن آج یہی طبقہ یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ جب اس کے خلاف نفرت انگیز مہمات چلائی جائیں، اس کے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جائے، اس کے تعلیمی، معاشی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہو، تو اس کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی سیاسی قوتیں کہاں ہوتی ہیں؟

مولانا طارق انور نے کہا کہ بہار میں حالیہ عرصے کے دوران ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے اقلیتوں کے اندر خوف اور بے اعتمادی کو بڑھایا ہے۔ انتظامی فیصلوں سے لے کر سیاسی بیانات تک، متعدد معاملات میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کمزور طبقات کے تحفظ اور ان کے آئینی حقوق کی ضمانت کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کو یقینی بنائے، لیکن زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔خاص طور پر وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور ان کے سیاسی طرزِ عمل کے حوالے سے عوامی سطح پر جو سوالات اٹھ رہے ہیں، ان کا جواب حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔ عوام محسوس کرتے ہیں کہ ریاست میں مسائل کے حل کے بجائے سیاسی محاذ آرائی، اشتعال انگیزی اور طاقت کے استعمال کا رجحان فروغ پارہا ہے۔ اگر کسی طبقے کے اندر مسلسل احساسِ محرومی جنم لے رہا ہو تو یہ کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ جبر، امتیازی رویے اور سیاسی بے حسی کے ذریعے نہ تو عوامی اعتماد حاصل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سماجی استحکام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے انصاف، شفافیت اور جوابدہی کی راہ اختیار کرے۔ اقلیتوں کے خلاف پیدا ہونے والی بے چینی کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔مولانا طارق انور نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور جے ڈی یو کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ احترام اور انصاف کا رویہ اختیار کیا گیا۔ اگر یہ دعویٰ آج بھی برقرار رکھنا ہے تو اس کا ثبوت محض بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دینا ہوگا۔ اقلیتوں کی حقیقی نمائندگی، ان کے مسائل کے حل کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی، اور ان کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں پر واضح مو¿قف اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سیکولر جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خاموشی کبھی بھی ظلم کا علاج نہیں بنتی۔ جب معاشرے کا کوئی طبقہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے تو سیاسی قیادت کی ذمہ داری صرف مذمتی بیان جاری کرنا نہیں بلکہ میدان میں اتر کر عوام کے درمیان کھڑا ہونا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ایوانوں کے اندر اور باہر ایک مضبوط، منظم اور مسلسل جدوجہد کا آغاز کریں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو ان کی سیاسی ساکھ اور عوامی اعتبار مزید کمزور ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم تمام جمہوریت پسند قوتوں، سماجی تنظیموں، دانشوروں اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بہار میں آئینی حقوق، سماجی انصاف اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے متحد ہوکر آواز بلند کریں۔ خاموشی کا ہر لمحہ ناانصافی کو مزید طاقتور بناتا ہے، جبکہ حق اور انصاف کے لیے بلند ہونے والی ہر آواز جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے، سیکولر جماعتیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور عوامی نمائندگی کو محض سیاسی نعرے کے بجائے عملی حقیقت میں تبدیل کیا جائے۔ یہی راستہ بہار میں انصاف، امن اور سماجی ہم آہنگی کے قیام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande