
ممبئی ، 04 جون (ہ س) کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے مہاراشٹر قانون ساز کونسل انتخابات کے سلسلے میں برسراقتدار مہایوتی اتحاد پر مہاوکاس اگھاڑی کے امیدواروں کی خرید و فروخت کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ہر سطح پر اقتدار میں ہونے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کو مزید طاقت درکار ہے اور اسی اقتدار کی خواہش میں جمہوری اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے۔
بلڈھانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے دعویٰ کیا کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات کو بلا مقابلہ کرانے کے لیے اپوزیشن امیدواروں کو کروڑوں روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امیدواروں سے نامزدگیاں واپس لینے کے لیے بی جے پی نے سیاسی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا ہے۔
سپکال کے مطابق بی جے پی کو جمہوریت نہیں بلکہ ایسا نظام درکار ہے جہاں انتخابات کے بجائے صرف نامزدگیاں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بلدیاتی اداروں کے منتخب عوامی نمائندے محدود رائے دہندگان کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، لیکن اس انتخابی عمل میں بھی مہایوتی کھلے عام ’’پیسہ پھینکو، تماشا دیکھو‘‘ کی سیاست کر رہی ہے۔کانگریس رہنما نے مزید الزام لگایا کہ اپوزیشن امیدواروں کو دستبردار کرانے کے لیے اقتدار اور مالی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے سازش، سیاسی بے وفائی اور بڑے پیمانے پر رقم کی تقسیم جیسے حربے اختیار کیے گئے ہیں۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہایوتی اس انتخاب کا سامنا انتہائی غیر جمہوری انداز میں کر رہی ہے، جو جمہوریت کے لیے ہرگز اچھا اشارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات جمہوریت کا جشن ہوتے ہیں اور انہیں صحت مند اور خوشگوار ماحول میں منعقد ہونا چاہیے، لیکن موجودہ صورتحال میں کھلے عام سیاسی گھوڑا بازار جاری ہے۔انہوں نے اس صورتحال کو جمہوریت کے لیے ایک سیاہ باب قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان خفیہ گٹھ جوڑ موجود ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے