
قانون ساز کونسل انتخاب میں انیکیت تٹکرے کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ ہموار۔ شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) کے امیدوار بال مانے نے نامزدگی واپس لیممبئی ، 4 جون (ہ س) مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے انتخابات میں ایک نیا سیاسی موڑ سامنے آیا ہے۔ کئی نشستوں پر مہایوتی امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسی سلسلے میں کونکن خطے کی رائے گڑھ-رتناگیری-سندھودرگ نشست پر اہم سیاسی پیش رفت ہوئی ہے، جہاں مہاوکاس اگھاڑی کے اتحادی شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) کے امیدوار سریندر عرف بال مانے نے اپنی نامزدگی واپس لے لی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کے پیچھے بی جے پی کے وزیر نتیش رانے کے کردار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔بال مانے کی جانب سے نامزدگی واپس لینے کے بعد نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) کے امیدوار انیکیت تٹکرے کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ تقریباً صاف ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) نے پارٹی مخالف سرگرمیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے بال مانے کو جماعت سے خارج کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے کی ہدایت پر کی گئی۔موصولہ اطلاعات کے مطابق بال مانے، جو شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں تھے، وزیر نتیش رانے کے ہمراہ ضلع کلکٹر کے دفتر پہنچے اور اپنی نامزدگی واپس لے لی۔ اس اقدام کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں اور اس فیصلے کو اپوزیشن اتحاد کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔بال مانے نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی تھیں کہ انتخابی عمل میں خرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے بقول انہیں مہاوکاس اگھاڑی کی جانب سے متوقع تعاون حاصل نہیں ہو رہا تھا اور بعض نامزدگی دستاویزات پر دستخطوں کے معاملات میں بھی مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات جمہوری اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں اور انہوں نے اپنی نامزدگی اس لیے واپس لی کیونکہ وہ خرید و فروخت کی سیاست کو کونکن کی تہذیب اور روایت کا حصہ نہیں سمجھتے۔ بال مانے کے اس فیصلے کے بعد مہاوکاس اگھاڑی کو ایک بڑا سیاسی نقصان پہنچا ہے، جبکہ انیکیت تٹکرے کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کے امکانات مزید مضبوط ہو گئے ہیںہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے