
ممبئی ، 4 جون (ہ س) سابق مرکزی وزیر اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے صدر شرد پوار سے جمعرات کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) کے سینئر رہنما اور مہاراشٹر اسمبلی کے سابق اسپیکر دلیپ ولسے پاٹل نے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک گفتگو ہوئی، جس کے بعد ریاست کے سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا۔ تاہم دونوں جانب سے یہ واضح کیا گیا کہ ملاقات میں کسی قسم کی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔
دلیپ ولسے پاٹل نے آج صبح ممبئی میں شرد پوار کی رہائش گاہ ’’سلور اوک‘‘ پر ان سے ملاقات کی۔ بعد ازاں شرد پوار نے بتایا کہ سابق وزیر داخلہ اور رکن اسمبلی دلیپ راؤ ولسے پاٹل نے ان سے ملاقات کے دوران ریاست میں پیاز کے مسئلے، کوآپریٹو شعبے، مختلف کوآپریٹو اداروں اور رَیَت شکشن سنستھا سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
شرد پوار نے کہا کہ اس ملاقات میں کسی بھی سیاسی موضوع پر گفتگو نہیں ہوئی۔ اس کے بعد دلیپ ولسے پاٹل نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ چند روز قبل نائب وزیر اعلیٰ سنیترہ پوار کے ساتھ دہلی گئے تھے، جہاں انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے شرد پوار کو اسی ملاقات اور اس کے نتائج سے آگاہ کیا۔
دلیپ ولسے پاٹل کے مطابق انہیں دہلی میں پیاز کی قیمتوں کے مسئلے پر مثبت یقین دہانی ملی ہے اور مرکزی حکومت 10 جون تک اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ آج کی ملاقات میں سیاسی امور زیر بحث نہیں آئے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے مہاراشٹر میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے دونوں دھڑوں، یعنی شرد پوار گروپ اور اجیت پوار گروپ، کے دوبارہ ایک ہونے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اگرچہ اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم چند روز قبل اجیت پوار گروپ کے ریاستی صدر سنیل تٹکرے اور کارگزار صدر پرفل پٹیل بھی شرد پوار سے ملاقات کر چکے ہیں۔
اسی پس منظر میں دلیپ ولسے پاٹل اور شرد پوار کے درمیان ہونے والی تازہ ملاقات نے سیاسی حلقوں میں دونوں جماعتوں کے ممکنہ انضمام سے متعلق بحث کو مزید گرم کر دیا ہے، اگرچہ دونوں رہنماؤں نے اس ملاقات کو غیر سیاسی قرار دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے