
برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی مخالفت میں این ایس یو آئی کا سدبدھی ہون، مین گیٹ پر احتجاج
بھوپال، 4 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں واقع برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدلنے کی تجویز کے خلاف جمعرات کو این ایس یو آئی کارکنوں نے یونیورسٹی کے مین گیٹ پر ’سدبدھی ہون‘ کر کے اپنا احتجاج درج کرایا۔ اس دوران کارکنوں نے ریاستی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے نام کی تبدیلی کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں طلبہ تنظیم کے عہدیداران اور کارکنان موجود رہے۔ پروگرام میں مجاہدِ آزادی برکت اللہ بھوپالی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے ان کے اعزاز میں نعرے لگائے گئے۔ این ایس یو آئی کے ریاستی نائب صدر روی پرمار نے کہا کہ برکت اللہ یونیورسٹی ریاست کا ایک تاریخی تعلیمی ادارہ ہے، جس کا نام مجاہدِ آزادی برکت اللہ بھوپالی کے احترام میں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا نام بدلنا نہ صرف جنگِ آزادی کی تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے، بلکہ یہ ریاست کی ثقافتی اور تعلیمی وراثت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ پرمار نے الزام لگایا کہ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ تعلیم، ریسرچ، طلبہ کے مسائل اور انتظامی امور پر توجہ دینے کے بجائے نام کی تبدیلی جیسے موضوعات کو آگے بڑھا کر حقیقی مسائل سے توجہ بھٹکا رہے ہیں۔
این ایس یو آئی نے یونیورسٹی میں مبینہ انتظامی بے ضابطگیوں، مالی گڑبڑیوں اور طلبہ کے مسائل کو لے کر بھی سوالات اٹھائے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے ان مسائل پر شکایتیں کی جا رہی ہیں، لیکن حل کے بجائے نام بدلنے کا فیصلہ کیا گیا، جو طلبہ کے جذبات کے برعکس ہے۔ ضلع صدر اکشے تومر نے رجسٹرار کی مدتِ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں کئی انتظامی تنازعات اور بدانتظامی کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یونیورسٹی یونٹ کے انچارج آشیش شرما نے کہا کہ این ایس یو آئی کا مطالبہ ہے کہ حکومت نام بدلنے کی تجویز پر نظرثانی کرے اور یونیورسٹی کا اصل نام برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے چیلنج دیا کہ اگر طلبہ کے جذبات کو نظر انداز کیا گیا تو ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر تحریک چلائی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن