مدھیہ پردیش میں بیٹیوں کے لیے لاڈلی لکشمی یوجنا اعلیٰ تعلیم کا سہارا بنی
بھوپال، 4 جون (ہ س)۔ ’’اگر حکومت سے مدد نہ ملتی، تو غربت کے آگے میرے گھٹنے ٹک جاتے اور میری پڑھائی ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتی۔ آج میں کالج جا رہی ہوں، تو صرف اس لیے کیونکہ میرے سر پر ’لاڈلی لکشمی یوجنا‘ کا ہاتھ ہے۔‘‘ یہ جذباتی کر دینے والے الفاظ
پرتیبھا بوریڈیا اور اوشین خان


بھوپال، 4 جون (ہ س)۔

’’اگر حکومت سے مدد نہ ملتی، تو غربت کے آگے میرے گھٹنے ٹک جاتے اور میری پڑھائی ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتی۔ آج میں کالج جا رہی ہوں، تو صرف اس لیے کیونکہ میرے سر پر ’لاڈلی لکشمی یوجنا‘ کا ہاتھ ہے۔‘‘

یہ جذباتی کر دینے والے الفاظ ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کے اشوک نگر ضلع کی پرتیبھا بوریڈیا کے ہیں۔ یہ محض ایک بچی کی زبانی نہیں ہے، بلکہ ریاستی حکومت کی پرجوش ’لاڈلی لکشمی یوجنا‘ کی کامیابی کی وہ جیتی جاگتی کہانی ہے، جو آج ریاست کی لاکھوں بیٹیوں کی زندگی میں روشنی بکھیر رہی ہے۔

اقتصادی تنگی اور مجبوریوں کے اندھیرے کو چیر کر اپنی قسمت خود لکھنے والی دو بیٹیوں- پرتیبھا بوریڈیا اور اوشین خان کی داستان آج قومی سطح پر ان تمام خاندانوں کے لیے ایک مثال ہے، جو مالی تنگی کی وجہ سے بیٹیوں کی پڑھائی بیچ میں ہی چھڑوا دیتے ہیں۔

اشوک نگر کے وارڈ نمبر 21 کی رہنے والی پرتیبھا کے والد راجیندر رجک مزدوری کرتے ہیں۔ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے اس خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی کے ساتھ بچوں کو پڑھانا ایک بڑے پہاڑ جیسا تھا۔ پرتیبھا بتاتی ہیں کہ جب وہ 12ویں کلاس میں تھیں، تو گھر کے مالی حالات دیکھ کر انہیں لگا کہ اب پڑھائی کا سفر یہیں تھم جائے گا۔

ٹھیک ایسی ہی کہانی وارڈ نمبر 18 کی اوشین خان کی بھی ہے۔ متوسط طبقے کے مزدور خاندان سے تعلق رکھنے والی اوشین کے والد امجد خان پر پورے خاندان اور بچوں کی تعلیم کا بھاری بوجھ تھا۔ لیکن، دونوں ہی بیٹیوں کے خوابوں کے آڑے غربت نہیں آ سکی، کیونکہ بچپن میں ہی آنگن واڑی کارکنوں کے ذریعے ان کا رجسٹریشن لاڈلی لکشمی یوجنا میں ہو چکا تھا۔

اس اسکیم کے تحت ان بیٹیوں کو اسکول سے لے کر کالج تک ہر موڑ پر مالی سہارا ملا۔ پرتیبھا کو چھٹی کلاس میں 2,000 روپے کی رقم، 9ویں کلاس میں 4,000 روپے، 11ویں کلاس میں 6,000 روپے اور 12ویں کلاس (سال 2025) میں 6,000 روپے کا وظیفہ ملا۔

اس مالی امداد کے دم پر دونوں بیٹیوں نے سال 2025 میں نہ صرف 12ویں کا امتحان شاندار نمبروں سے پاس کیا، بلکہ کالج کی دہلیز پر بھی قدم رکھ دیا۔ اس وقت پرتیبھا کو کالج کے پہلے سال کے لیے 12,500 روپے کی قسط مل چکی ہے، وہیں اوشین کو گریجویشن کی سطح پر دو قسطوں میں کل 25,000 روپے کی امداد مل رہی ہے۔

پبلک ریلیشن آفیسر بندو سنیل نے جمعرات کو بتایا کہ مدھیہ پردیش حکومت کی یہ اسکیم صرف ایک مالی مدد نہیں، بلکہ سماجی تبدیلی کی ایک بڑی تحریک بن چکی ہے۔ اسکیم کے تحت اہل لڑکیوں کو پیدائش سے لے کر 21 سال کی عمر پوری ہونے تک کل 1,43,000 روپے کی مالی امداد مرحلہ وار طریقے سے فراہم کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد بیٹیوں کی پیدائش کے تئیں قدامت پسند معاشرے کی سوچ کو بدل کر اس کی حوصلہ افزائی کرنا، لڑکیوں کی تعلیم کو بغیر کسی رکاوٹ کے اعلیٰ سطح تک لے جانا اور کم عمری کی شادی جیسی بری رسم پر پوری طرح روک لگانا ہے (کیونکہ اسکیم کا فائدہ اسی وقت ملتا ہے جب بیٹی کی شادی 18 سال سے کم عمر میں نہ ہوئی ہو)۔

آج جب یہ بیٹیاں ہاتھ میں کالج کی کتابیں لے کر آگے بڑھ رہی ہیں، تو ان کے چہروں پر ایک نیا اعتماد ہے۔ پرتیبھا اور اوشین کہتی ہیں، ’’یہ اسکیم ہمارے لیے کسی سچے تحفے سے کم نہیں ہے۔ بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والی سوچ کو اس اسکیم نے جڑ سے ختم کر دیا ہے۔ ہم وزیراعلیٰ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہیں، جنہوں نے ہمارے خوابوں کو مرنے نہیں دیا۔‘‘

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande