
کوڈرما، 4 جون (ہ س)۔ کوڈرما تھانہ علاقہ کے چتر پور گاوں میں بدھ کی رات کوڈرما کی ایم ایل اے ڈاکٹر نیرا یادو کے ذاتی ڈرائیور 40 سالہ راجکمار یادو (ولد دشرتھ یادو) کا بدھ کی رات قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے میں راجکمار کی 15 سالہ بیٹی سونیکا کماری، 55 سالہ ماں سدھا دیوی اور 60 سالہ والد دشرتھ یادو شدید زخمی ہو گئے۔
والد دشرتھ یادو کی حالت انتہائی نازک ہے اور انہیں رمز ریفر کر دیا گیا ہے۔ ماں -بیٹی کا صدر اسپتال میں علاج جاری ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایم ایل اے ڈاکٹر نیرا یادو نے صدر اسپتال پہنچ کر اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور پولیس کے کام کرنے کے انداز پر سوال اٹھایا۔
ایم ایل اے نے الزام عائد کیا کہ اگر پولیس پہلے موصول ہونے والی شکایات پر سنجیدگی سے کارروائی کرتی تو اتنا بڑا واقعہ رونما نہ ہوتا۔ دریں اثناء مقامی باشندوں نے جمعرات کی صبح لاش کو لے کر کوڈرما تھانے کے سامنے رکھ کر سڑک جام کر دی۔
ایم ایل اے ڈاکٹر نیرا یادو نے کہا کہ راجکمار بدھ کی رات میرے ساتھ جھمری تیلیا سے واپس آیا تھا۔ اس نے شام کو مجھے بتایا کہ گاؤں کے کچھ لوگوں نے اس کی ماں کو ایک گڑھے میں ڈالر کر اسے مٹی سے بھر رہے ہیں ۔
اس وقت میں نے کوڈرما تھانے کے انچارج وکاس پاسوان سے فون پر بات کی اور ان سے فوری طور پر گاؤں میں پولیس بھیجنے کو کہا۔ لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ڈیوٹی کے بعد راجکمار جب گھر واپس پہنچا تو اس کے کچھ دیر بعد ہی مجھے خبر ملی کہ اسے مار کر بری طرح زخمی کر دیا ہے اور اسے صدر اسپتال لایا گیا ہے۔
جب ہم صدر اسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ راجکمار کے والد دشرتھ یادو بھی اس واقعہ میں شدید زخمی ہوئے ہیں اور انہیں رمز بھیج دیا گیا ہے اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔ اس کی ماں اور بیٹی بھی زخمی ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ سارا واقعہ ایک سوچ سمجھ کر ایک سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ کوڈرما تھانہ انچارج کا کردار مکمل طور پر مشکوک ہے۔ جب کوڈرما ایس پی کو واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ نہ تو ذاتی طور پر حاضر ہوئے اور نہ ہی کوئی کارروائی کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد