جدید غزل کے امام ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں ’دیارِ ادب انڈیا‘ کا شاندار مشاعرہ
علی گڑھ, 04 جون (ہ س)دیارِ ادب انڈیا کے زیرِ اہتمام جدید غزل کے امام، ممتاز شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اے ڈی اے کالونی، علی گڑھ میں ایک پروقار اور یادگار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے کا آغاز روایتی شمع افرو
مشاعرہ


علی گڑھ, 04 جون (ہ س)دیارِ ادب انڈیا کے زیرِ اہتمام جدید غزل کے امام، ممتاز شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اے ڈی اے کالونی، علی گڑھ میں ایک پروقار اور یادگار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے کا آغاز روایتی شمع افروزی سے ہوا، جس کی سعادت ممتاز سماجی شخصیت الحاج محمد ظہیر قریشی اور کانگریس کے سابق صدر حاجی نوشاد قریشی نے حاصل کی۔

مشاعرے کی صدارت بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر جناب جونی فاسٹر نے کی، جبکہ سابق ایم ایل اے وویک بنسل مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ اس موقع پر معروف سماجوادی رہنما عبدالحمید گھوسی اور ونود کمار سویتا بطورِ مہمانانِ ذی وقار موجود رہے۔ مشاعرے کی نظامت معروف ادبی شخصیت ڈاکٹر مجیب شہزر نے اپنے منفرد اور دلکش انداز میں انجام دی اور محفل کو آغاز سے اختتام تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔

مشاعرے کے دوران مقررین نے ڈاکٹر بشیر بدر کی شاعرانہ عظمت، منفرد اسلوبِ بیان اور اردو ادب میں ان کی گراں قدر خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر سید جاوید اختر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

ڈاکٹر بشیر بدر نے اردو غزل کو عام فہم، سادہ اور دلکش زبان عطا کی۔ انہوں نے غزل کو محض ادبی حلقوں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عام انسان کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔ آج کا یہ مشاعرہ ان کے اسی لازوال شعری شعور کو سلام پیش کرنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے جس نے نسلوں کی ادبی تربیت کی ہے۔

مہمانِ خصوصی وویک بنسل نے ڈاکٹر بشیر بدر کو گنگا جمنی تہذیب کا سفیر قرار دیتے ہوئے کہا:

بشیر بدر صاحب کا کلام صرف شاعری نہیں بلکہ ہندوستانی معاشرے کی مشترکہ تہذیب، محبت اور رواداری کا آئینہ ہے۔ ان کے اشعار زبان، مذہب اور سرحدوں کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر حساس دل میں جگہ بنا لیتے ہیں۔

کانگریس کے سابق صدر حاجی نوشاد قریشی نے اپنے خطاب میں کہا:

بشیر بدر نے عصری سچائیوں، انسانی رشتوں کے بدلتے رنگوں اور زندگی کے درد کو جس خوبصورتی سے غزل کے قالب میں ڈھالا ہے، وہ ان کا منفرد امتیاز ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں عوام کے شاعر ہیں اور ان کی یاد میں ایسی ادبی محافل کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ناظمِ مشاعرہ ڈاکٹر مجیب شہزر نے ڈاکٹر بشیر بدر کے ادبی مقام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:

ڈاکٹر بشیر بدر جدید غزل کے وہ معمار ہیں جنہوں نے روایتی علامات کو ایک نئے اور عصری تناظر سے روشناس کرایا۔ ان کا لہجہ نرم، شائستہ اور اثر انگیز ہے۔ انہوں نے اردو غزل کو جو ندرتِ خیال، تازگی اور شگفتگی عطا کی، اس نے جدید غزل کے ایک نئے عہد کی بنیاد رکھی۔ آج علی گڑھ کی یہ شام ان کی عظمت کے اعتراف کا خوبصورت اظہار ہے۔

مشاعرے کے آغاز میں صدرِ استقبالیہ ڈاکٹر اویس جمال شمسی نے ڈاکٹر بشیر بدر کی حیات، ادبی سفر اور اردو ادب پر ان کے احسانات کا جامع اور فکر انگیز جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے مشاعرے کو کامیاب بنانے میں تعاون کرنے والے تمام مہمانان، شعرائے کرام اور دور و نزدیک سے تشریف لانے والے سامعین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

مشاعرے کے کنوینر خان محمد آصف اور آرگنائزر حاجی نوشاد قریشی نے تمام معزز مہمانان اور شعرائے کرام کو یادگاری مومنٹو پیش کرکے ان کا خیرمقدم کیا۔

مشاعرے کے دوسرے دور میں ملک کے ممتاز اور نامور شعرائے کرام نے ڈاکٹر بشیر بدر کی خدمت میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا اور اپنے دلکش کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں کلام پیش کرنے والے شعرائے کرام میں جناب جونی فاسٹر، پروفیسر معید رشیدی، پروفیسر وصی بیگ بلال، ڈاکٹر اویس جمال شمسی، ڈاکٹر خاور خان سرحدی، ڈاکٹر کمال احمد کمال، ڈاکٹر دولت رام شرما، جناب بابر الیاس، جناب شاداب ایٹوی، جناب زاہد خان راحت، جناب سلمان حبیب، جناب محمد فراز مجیب، جناب آزاد رتلامی اور جناب نصیر نادان شامل تھے۔

یہ تاریخی مشاعرہ رات گئے تک جاری رہا۔ علی گڑھ کے باذوق سامعین نے ہر شعر پر دل کھول کر داد و تحسین پیش کی۔ مجموعی طور پر یہ محفل دیارِ ادب انڈیا کی جانب سے ڈاکٹر بشیر بدر کو پیش کیا گیا ایک یادگار، شاندار اور بے مثال خراجِ عقیدت ثابت ہوئی، جسے شرکاء طویل عرصے تک یاد رکھیں گے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande