برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے، وزیر اعلیٰ تعلیم نے کہا، تمام پہلووں پر غور ہوگا
بھوپال، 4 جون (ہ س)۔ ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں واقع برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدل کر ’’واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘‘ کیے جانے کی تجویز کو لے کر ریاست میں سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ یونیورسٹی کی مجلسِ عاملہ (ایگزیکٹو کونس
اعلیٰ تعلیم وزیر نے کہا: تمام پہلووں پر غور ہوگا


کانگریس لیڈر عارف مسعود نے احتجاج کیا


حافظ اسماعیل بیگ جمیعت علماء ضلع بھوپال صدر


بھوپال، 4 جون (ہ س)۔ ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں واقع برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدل کر ’’واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘‘ کیے جانے کی تجویز کو لے کر ریاست میں سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔

یونیورسٹی کی مجلسِ عاملہ (ایگزیکٹو کونسل) کی جانب سے منظور شدہ تجویز گورنر کو بھیجے جانے کے بعد اپوزیشن پارٹیوں، سماجی تنظیموں اور تعلیمی شعبے سے منسلک لوگوں کے ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔ وہیں ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ تجویز موصول ہونے کے بعد اس کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا اور وزیراعلیٰ سے بات چیت کے بعد آگے کا فیصلہ لیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ تعلیم اندر سنگھ پرمار نے جمعرات کو گورنر سے ملاقات کے بعد کہا کہ یونیورسٹی کی مجلسِ عاملہ نے تجویز منظور کی ہے، جو جلد ہی حکومت اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے پاس پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی ایک خود مختار ادارہ ہے اور مجلسِ عاملہ اپنے فیصلے لینے کے لیے آزاد ہے۔ تجویز حاصل ہونے کے بعد اس کا مجموعی مطالعہ کیا جائے گا اور وزیراعلیٰ سے مشاورت کے بعد آگے کا طریقہ کار طے ہوگا۔

کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود نے نام کی تبدیلی کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا برکت اللہ بھوپالی تحریکِ آزادی کے ایک اہم مجاہد تھے اور ان کے نام پر قائم یونیورسٹی کی شناخت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ مسعود نے کہا کہ اگر حکومت واگ دیوی کے نام پر یونیورسٹی قائم کرنا چاہتی ہے تو نئی یونیورسٹی قائم کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہائیوں سے قائم کسی ادارے کا نام بدلنے کے بجائے تعلیمی نظام کے چیلنجوں اور طلبہ کے مسائل پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ گورنر سے ملاقات کر کے اپنا اعتراض درج کرائیں گے۔

نام کی تبدیلی کی تجویز پر کچھ سماجی اور مذہبی تنظیموں نے بھی اعتراض کیا ہے۔ جمیعت علماء ضلع بھوپال کے صدر حافظ اسماعیل بیگ نے کہا کہ مولانا برکت اللہ بھوپالی کا تحریکِ آزادی میں اہم تعاون رہا ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹی کا نام بدلنا تاریخی وراثت سے منسلک سوالات کھڑے کرتا ہے۔ بیگ نے حکومت سے تجویز پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نئے نام سے یونیورسٹی قائم کرنی ہے تو علیحدہ ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔

مدھیہ پردیش سرب دھرم سدبھاونا منچ نے بھی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ منچ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ برکت اللہ بھوپالی کا نام جنگِ آزادی کی تاریخ سے جڑا ہے اور یونیورسٹی کی موجودہ شناخت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ تنظیم نے حکومت سے مجلسِ عاملہ کی تجویز کو قبول نہیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande