
۔ ممتا بنرجی پر بدعنوانی کے خلاف بروقت کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کیا
کولکاتا، 4 جون (ہ س)۔ سابق مرکزی وزیر اور پارٹی کے سینئر لیڈر بابل سپریو ترنمول کانگریس میں ممتا بنرجی کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کرنے والوں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔ وہ ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر ہیں۔ سپریو نے بدعنوانی کے معاملے پر پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کے خلاف سنگین تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے بدھ کی رات کہا کہ ممتا بنرجی نے اقتدار میں آنے کے ابتدائی دور میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی، جو ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
بابل سپریو نے کہا کہ اگر بدعنوانی، عوامی فنڈز کی ہیرا-پھیری اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف شروع سے ہی سخت کارروائی کی جاتی تو آج حالات اتنے پیچیدہ نہیں ہوتے۔ اسی سستی نے پارٹی کے کچھ رہنماؤں کو غیر منصفانہ فائدہ حاصل کرنے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں کئی متنازعہ شخصیات نام نہاد’’60 ‘‘کے گروپ کا حصہ بن گئیں۔
تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس ’’60‘‘ سے ان کا اشارہ کس طرف ہے۔ اس تبصرے کے بعد سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ٹی ایم سی کے باغی ایم ایل اے کا حوالہ دے رہے تھے، جن کی تعداد فی الحال 58 ہے اور اس کے 60 ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔
بابل نے ایک اور متازعہ تبصرے میں کسی شخص کے بارے میں کہا کہ وہ انہیں سب سے زیادہچونکانے والا لگا۔ انہوں نے اشارے اشارے میںکہا کہ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ’’ایک شخص ہمارے درمیان سانپ کی شکل میںگھوم رہا تھا‘‘، حالانکہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی مشورہ دیا کہ وہ دوسری پارٹیوں سے آئے لیڈروں کو شامل کرنے کی وہی غلطی نہ دہرائے، جس سے بعد میں سیاسی تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ بابل سپریو نے کہا کہ ان کا پورا تبصرہ ان کی ذاتی رائے ہے اور اس کا ان کی پارٹی کی باضابطہ پوزیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد