ایک اور 'ٹیرف بم' پھوڑ سکتا ہے امریکہ، بھارت سمیت 60 ممالک پرلگ سکتا ہے اضافی ٹیرف
نئی دہلی، 03 جون (ہ س)۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے بھارت، چین، جاپان اور برطانیہ جیسے تقریباً 60 ممالک کو اضافی ٹیرف کا جھٹکا دے سکتی ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کے دفتر نے ان 60 ممالک سے درآمدات پر
ٹیرف


نئی دہلی، 03 جون (ہ س)۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے بھارت، چین، جاپان اور برطانیہ جیسے تقریباً 60 ممالک کو اضافی ٹیرف کا جھٹکا دے سکتی ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کے دفتر نے ان 60 ممالک سے درآمدات پر 10 فیصد سے 12.50 فیصد تک کے دو سلیبس میں اضافی ٹیرف لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ تحقیقات کے بعد یو ایس ٹی آر کے دفتر نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ تمام ممالک جبری مشقت (بندھوا یا جبری مزدوری) کے خلاف بنائے گئے قوانین کو سختی سے نافذ کرنے یا جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمد پر پابندی لگانے میں جزوی یا مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کا خیال ہے کہ جبری مشقت کے حوالے سے ان ممالک کے کمزور ضابطے اورنرم پالیسیاں ان کی مصنوعات کو نسبتاً سستی بناتی ہیں، جس سے امریکی ورک فورس کوتجارت کیلئے برابری کا موقع نہیں ملتاہے۔ نتیجتاً، یو ایس ٹی آر آفس نے 1974 کے یو ایس ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کے تحت بھارت سمیت 60 ممالک کے خلاف اضافی ٹیرف لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ امریکہ کے چند اہم تجارتی شراکت داروں کا جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ سامان کی درآمد کو محدود کرنے سے انکار ناقابل قبول ہے۔ یہ امریکی ورک فورس کو غیر مساوی عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایسے ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنا ضروری ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جبری مشقت کا استعمال ان ممالک میں کمپنیوں کو نمایاں طور پر کم لاگت پر سامان تیار کرنے کی اجازت دیتا ہے،جس سے بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت میں اضافہ اور مصنوعات کی قیمتیں گرجاتی ہیں۔ یہ امریکی پروڈیوسروں کو اپنی مصنوعات کم قیمتوں پر فروخت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس سے عالمی تجارتی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے، اس لئے کہ نظریاتی طور پر تمام کھلاڑیوں کے لیے برابری کے کھیل کے میدان کی ضرورت ہوتی ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے تمام ساٹھ ممالک پر دو مختلف ٹیرف سلیبس میں اضافی محصولات عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ پہلا سلیب 10 فیصد اضافی ٹیرف کا ہے۔ یہ سلیب ان ممالک کے لیے ہے جہاں جبری مشقت پر مشتمل درآمدات پر مکمل یا جزوی قانونی پابندی ہے لیکن قانونی پابندی پر سختی سے عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ دوسرا سلیب 12.50 فیصد اضافی ٹیرف کا ہے۔ یہ سلیب ان ممالک کے لیے تجویز کیا گیا ہے جہاں جبری مشقت کو روکنے کے لیے کوئی قانونی طریقہ یا پابندی کا فریم ورک نہیں بنایا گیا اور نہ ہی نافذ کیا گیا ہے۔ امریکہ کے تجارتی نمائندے کے دفتر نے ہندوستان کو اس زمرے میں شامل کیا ہے۔

امریکہ اپنی 99 فیصد اشیاءان 60 ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے 12 مارچ 2026 کو جبری مشقت کی تحقیقات کا آغاز کیا۔ اس تحقیقات میں چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، ویت نام، برطانیہ اور کئی خلیجی ممالک شامل تھے۔ ان میں سے 54 ممالک قوانین بنانے اور انہیں سختی سے نافذ کرنے میں ناکام رہے۔ کناڈا، انڈونیشیا، ایکواڈور اور پاکستان سمیت چھ دیگر ممالک کو قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہ کرنے کا قصوروار پایا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی پہلی مدت کے دوران 1974 کے یو ایس ٹریڈ ایکٹ کی دفعہ 301 کا اطلاق کیا۔ اپنی پہلی مدت کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس قانون کو چینی درآمدات پر بھاری محصولات لگانے کے لیے استعمال کیا۔ اس قانون کے تحت، اگر کوئی ملک اس کے تجارتی مفادات کو متاثر کرتا ہے تو امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی محصولات عائد کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande