
ممبئی ، 3 جون (ہ س) مہاراشٹر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے دیویندر فڑنویس کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی مہایوتی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کسان قرض معافی اسکیم کو محض نمائشی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اسکیم میں مختلف قواعد، شرائط اور تکنیکی پابندیاں شامل کرکے 50 فیصد سے زائد کسانوں کو جان بوجھ کر اس کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست کے تمام کسانوں کا سات بارہ ریکارڈ مکمل طور پر صاف کرکے انہیں حقیقی راحت فراہم کی جائے۔
کسان قرض معافی کے مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ حکومت کی یہ اسکیم یکم اپریل 2019 سے 31 مارچ 2025 کے درمیان جاری کیے گئے اور بعد میں نادہندہ قرار پانے والے زرعی قرضوں تک محدود رکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایسے متعدد کسان ہیں جنہوں نے اس مدت سے قبل قرض حاصل کیا تھا اور بقایا قرض کے باعث انہیں نیا فصلی قرض نہیں مل سکا، اس لیے وہ اس اسکیم کے فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے کسانوں کی تعداد قرض معافی سے فائدہ حاصل کرنے والے کسانوں کی تعداد سے دوگنی سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، لہٰذا تمام نادہندہ کسانوں کو اس اسکیم میں شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ ’’مہاتما جوتیبا پھلے شیتکری سمان‘‘ قرض معافی اسکیم سے فائدہ حاصل کرنے والے اور اس وقت دوبارہ نادہندہ بن چکے کسانوں کے بقایا قرض مکمل طور پر معاف نہیں کیے جائیں گے بلکہ انہیں صرف 50 ہزار روپے کا محدود فائدہ ملے گا۔ ان کے مطابق فڑنویس حکومت کی موجودہ اسکیم صرف فصلی قرض اور ازسرِ نو تشکیل دیے گئے قرضوں تک محدود ہے، جبکہ ایسے کسان جنہوں نے کنویں، پائپ لائن، گائے، بھینس یا دیگر زرعی ضروریات کے لیے قرض لیا تھا اور وہ بھی بقایا ہے، اس اسکیم سے باہر رہیں گے۔
ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا کہ باقاعدگی سے قرض واپس کرنے والے کسانوں کو بھی حکومت نے نظر انداز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترغیبی امداد حاصل کرنے کے لیے کسانوں کو 2022-23، 2023-24 اور 2024-25 کے تین برسوں میں سے کسی دو برس میں فصلی قرض لے کر مقررہ وقت میں واپس کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2025-26 اور 2026-27 میں حاصل کیے گئے قرضوں کی ادائیگی بھی لازمی رکھی گئی ہے۔ ان تمام شرائط کی تکمیل کے بعد بھی صرف 50 ہزار روپے کی محدود ترغیبی رقم دی جائے گی۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کسان مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور قرض معافی کے نام پر محض تشہیر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا اصل مقصد زیادہ سے زیادہ کسانوں کو قرض معافی کے فوائد سے محروم رکھنا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی فڑنویس حکومت کی قرض معافی اسکیم میں متعدد شرائط عائد کرکے لاکھوں کسانوں کو فائدے سے محروم رکھا گیا تھا۔
سپکال نے کہا کہ جس طرح ’’لاڈکی بہن یوجنا‘‘ میں مختلف شرائط نافذ کرکے تقریباً 80 لاکھ خواتین کو فوائد سے محروم کیا گیا، اسی طرح اب کسانوں کو بھی قواعد و ضوابط کے جال میں پھنسا کر لاکھوں افراد کو قرض معافی سے دور رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ کسانوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک دراصل ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے