
بھوپال، 3 جون (ہ س)۔
نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت کام کرنے والے ریاست کے تقریباً 32 ہزار کنٹریکٹ ملازمین اپنے دیرینہ مطالبات کو لے کر مسلسل تحریک کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز بھی راجدھانی بھوپال کے جے پی اسپتال کے باہر ملازمین نے دھرنا مظاہرہ کر کے حکومت کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ دوسری طرف ریاست کے کئی اضلاع میں ہڑتال کے سبب طبی خدمات متاثر ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
کنٹریکٹ ملازمین نے صاف لفظوں میں تنبیہ دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر جلد فیصلہ نہیں کیا گیا، تو 8 جون کو وزیراعلیٰ رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔
کنٹریکٹ ملازمین کی تنظیم کے نمائندوں کے مطابق، ریاست کے تمام 52 اضلاع میں ملازمین ہڑتال پر ہیں اور مختلف طریقوں سے اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کنٹریکٹ ملازم اجے اوستھی نے الزام لگایا کہ سال 2023 میں جس کنٹریکٹ پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا، اس پر موثر طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ طبی خدمات میں برسوں سے اہم کردار ادا کرنے کے باوجود ان کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست بھر میں ملازمین دھرنا، مظاہرے، عوامی بیداری اور شرم دان جیسے پروگراموں کے ذریعے اپنی اہمیت اور مطالبات کو سامنے رکھ رہے ہیں۔
کنٹریکٹ ملازم کامنی مہرا نے بتایا کہ پوری ریاست کے ملازمین 25 مئی سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے دورِ اقتدار میں کنٹریکٹ ملازمین کے مطالبات کو لے کر پالیسی بنائی گئی تھی اور کئی امور پر اتفاق بھی ہوا تھا، لیکن اس کے بعد مطلوبہ کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب ملازمین آر یا پار کی لڑائی کے لیے تیار ہیں اور مطالبات پورے نہ ہونے پر اس تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔
کنٹریکٹ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ نیشنل پینشن سسٹم (این پی ایس) اور ہیلتھ انشورنس کی سہولت لاگو کی جائے۔ ہر سال 10 فیصد تنخواہ میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔ مستقل ملازمین کی طرح مہنگائی الائونس (ڈی اے) دیا جائے۔ تنخواہوں کی تجدید اور سالانہ انکریمنٹ کو بحال کیا جائے۔ تنخواہوں سے متعلق تضادات کو دور کیا جائے۔ مستقل ملازمین کے مساوی چھٹیوں کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ’’مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ‘‘ کا اصول نافذ کیا جائے۔
کنٹریکٹ ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان کے مطالبات پر بات چیت کر کے کوئی حل نہیں نکالتی، تو 8 جون کو وزیراعلیٰ رہائش گاہ کا گھیراو کر کے ایک بڑا مظاہرہ کیا جائے گا۔ اس کے لیے پوری ریاست سے ملازمین کو بھوپال پہنچنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ملازمین کا دعویٰ ہے کہ وہ طبی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کے مسائل کا حل نہ صرف ملازمین کے مفاد میں ہے، بلکہ صحت کی خدمات کی مضبوطی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن