پولیس کسان کے کھیت پر مہم کے تحت 663 زرعی تنازعات کا تصفیہ
لاتور پولیس کی 1,002 دیہاتوں میں پہنچ کر شکایات کا ازالہلاتور، 3 جون (ہ س)۔ دیہی علاقوں کے کسانوں کے مسائل ان کے کھیتوں تک پہنچ کر سمجھنے، زرعی تنازعات اور شکایات کا فوری ازالہ کرنے اور کسانوں و پولیس کے درمیان اعتماد کو مزید مستحکم بنانے کے مق
MAHA-LATURE-POLICE-FARMER


لاتور پولیس کی 1,002 دیہاتوں میں پہنچ کر شکایات کا ازالہلاتور، 3 جون (ہ س)۔ دیہی علاقوں کے کسانوں کے مسائل ان کے کھیتوں تک پہنچ کر سمجھنے، زرعی تنازعات اور شکایات کا فوری ازالہ کرنے اور کسانوں و پولیس کے درمیان اعتماد کو مزید مستحکم بنانے کے مقصد سے لاتور ضلع پولیس کی جانب سے شروع کیا گیا ’’پولیس کسان کے کھیت پر‘‘ نامی منفرد اقدام نمایاں طور پر کامیاب ثابت ہوا ہے۔ اس مہم کے تحت ضلع بھر میں زراعت اور زمین سے متعلق مجموعی طور پر 663 معاملات نمٹائے گئے ہیں۔یہ معلومات آج جاری کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پولیس سپرنٹنڈنٹ امول تانبے کے تصور کے تحت 16 مارچ 2026 سے 30 مئی 2026 تک یہ مہم چلائی گئی۔ دیہی علاقوں میں کسانوں کو کھیتی کے راستوں، حد بندی کے تنازعات، پانی کی تقسیم، تجاوزات، ملکیتی حقوق، قبضے، فصل کی کٹائی، زمین کی تقسیم اور خاندانی و سماجی جھگڑوں سمیت مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے کسانوں کو پولیس تھانوں اور مختلف سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے پڑتے تھے۔ اس دشواری کو کم کرنے کے لیے پولیس افسران اور اہلکار براہِ راست کسانوں کے کھیتوں تک پہنچے، ان کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کیے۔اس مہم کے دوران ضلع کے 1,002 دیہاتوں کا دورہ کیا گیا۔ دیہی دوروں کے دوران موصول ہونے والی شکایات، درخواستوں اور تنازعات پر فوری کارروائی کی گئی، جبکہ کئی مقامات پر فریقین کی کونسلنگ کرکے باہمی رضامندی سے مسائل حل کرائے گئے۔ حل کیے گئے معاملات میں ملکیتی حقوق اور قبضے سے متعلق 119، کھیتوں کی حد بندی اور جھگڑوں کے 136، پانی کے حقوق اور تقسیم کے 49، زمین کی پیمائش سے متعلق 50، زمین کی تقسیم کے 57، فصل کی کٹائی کے 10 اور دیگر نوعیت کے 33 معاملات شامل ہیں۔اس مہم کا سب سے اہم نتیجہ یہ سامنے آیا کہ زراعت سے متعلق متعدد تنازعات کو عدالتی مقدمات یا سنگین جرائم کی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی خوش اسلوبی سے نمٹا دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کا وقت، سرمایہ اور ذہنی دباؤ بڑی حد تک کم ہوا اور دیہی علاقوں میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مدد ملی۔ اس سلسلے میں پولیس سپرنٹنڈنٹ امول تانبے نے کہا کہ کسان معاشرے اور معیشت کی بنیاد ہیں۔ ان کے مسائل کا بروقت حل اور انہیں انصاف فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پولیس کسان کے کھیت پر‘‘ مہم کے ذریعے صرف شکایات کا ازالہ ہی نہیں کیا گیا بلکہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں بھی اس اقدام کو مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔’’پولیس کسان کے کھیت پر‘‘ مہم لاتور ضلع پولیس کی عوام دوست طرزِ کار کی ایک بہترین مثال بن کر سامنے آئی ہے اور دیہی علاقوں میں تنازعات کے خاتمے، باہمی رابطے اور اعتماد کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام ثابت ہو رہی ہے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande