
لداخ , 03 جون (ہ س)۔ لداخ میں سرحدی علاقوں کی ترقی اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے بھارت-چین سرحد کے قریب واقع چومور گاؤں میں پہلے ماڈل بارڈر ولیج کا سنگِ بنیاد رکھا۔ یہ منصوبہ حکومت ہند کے وائبرنٹ ولیج پروگرام کے تحت شروع کیا گیا ہے۔16,700 فٹ کی بلندی پر واقع چومور گاؤں میں 24 خاندان آباد ہیں جن کی کل آبادی 91 افراد پر مشتمل ہے۔ یہاں کے بیشتر باشندے پشمینہ بکریوں کی پرورش اور پشمینہ کی پیداوار سے وابستہ ہیں۔
حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں لداخ کے 10 سرحدی دیہات کو ماڈل بارڈر ولیج کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ منصوبے کے تحت جدید رہائشی مکانات، سیاحتی سہولیات، قابلِ تجدید توانائی، پینے کے پانی، صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کی زندگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت سرحدی گاؤں کو ملک کے پہلے گاؤں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف سرحدی علاقوں میں ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ قومی سلامتی اور سرحدی استحکام بھی مضبوط ہوگا۔
منصوبے کے تحت چومور کو سیاحتی مرکز کے طور پر بھی فروغ دیا جائے گا جبکہ پشمینہ صنعت، دستکاری اور مقامی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سال بھر سبزیوں کی پیداوار کے لیے جدید گرین ہاؤس بھی قائم کیا جائے گا، جس سے مقامی لوگوں اور قریبی دفاعی تنصیبات کی ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔حکام کا کہنا ہے کہ چومور ماڈل بارڈر ولیج مستقبل میں ملک کے دیگر سرحدی علاقوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ثابت ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر