کنال چودھری نے حکومت کی کسان پالیسیوں پر سوال اٹھائے، راحت پیکیج اور پالیسی اصلاحات کا مطالبہ کیا
بھوپال، 3 جون (ہ س)۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے قومی سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی کنال چودھری نے بدھ کے روز ریاستی کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت پر کسانوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ
کنال چودھری نے حکومت کی کسان پالیسیوں پر سوال اٹھائے


بھوپال، 3 جون (ہ س)۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے قومی سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی کنال چودھری نے بدھ کے روز ریاستی کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت پر کسانوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کو زرعی ریاست بتاتے ہوئے حکومت کسانوں کی بہبود کے دعوے تو کر رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر کسان قدرتی آفات، بڑھتی ہوئی لاگت اور انتظامی انتظامات کی وجہ سے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

کنال چودھری نے بتایا کہ برہان پور، کھنڈوا اور کھرگون اضلاع میں حال ہی میں آنے والے تیز آندھی طوفان سے کیلے کی فصل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ شاہ پورہ، کھاپا، دھامنگاوں، لونی، بہادر گڑھ، بولانا اور دریا پور سمیت کئی گاوں میں کھیتوں میں کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ کانگریس کے مطابق، ابتدائی تخمینے میں کسانوں کو 150 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متاثرہ کسانوں کو فوری راحت دینے کے بجائے حکومت صرف سروے اور اعلانات تک محدود ہے۔

رائسین میں مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کے ذریعے شروع کی گئی ’’کھیت بچاو مہم‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے چودھری نے کہا کہ کسانوں کو محض علامتی پروگراموں سے نہیں، بلکہ فصل کی مناسب قیمت، وقت پر کھاد، آبپاشی کی سہولت، بجلی اور قرض سے راحت جیسی ٹھوس پالیسیوں سے مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے موسم پر مبنی فصل بیمہ یوجنا کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش کے کیلا پیدا کرنے والے کسانوں کو اب تک اس اسکیم کا فائدہ نہیں مل رہا ہے، جبکہ دیگر ریاستوں میں کسانوں کو ایسی سہولیات دستیاب ہیں۔

کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ نقصان کے تخمینے کا موجودہ طریقہ کار کسانوں کے حقیقی نقصان کی عکاسی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق، آندھی میں کچھ پودے گرنے کے باوجود باقی پودے بھی پیداوار کے قابل نہیں رہ جاتے، لیکن سرکاری سروے میں نقصان کا فیصد کم تخمینہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں 100 فیصد نقصان مانتے ہوئے مکمل معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔

کنال چودھری نے ریاستی حکومت کے ای ٹوکن اور آن لائن کھاد کی تقسیم کے نظام کو کسانوں کے لیے پیچیدہ اور ناقابلِ عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں کی مٹی اور فصلوں کی ضروریات الگ الگ ہوتی ہیں، لیکن پورٹل پر مبنی یہ نظام کسانوں کی حقیقی ضروریات کو دھیان میں نہیں رکھتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشترکہ کھاتوں، بٹائی پر کھیتی کرنے والے کسانوں اور دور رہنے والے زمینداروں کے معاملات میں بائیومیٹرک تصدیق جیسی شرطوں کی وجہ سے کسانوں کو کھاد حاصل کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ کئی مقامات پر کسانوں کو سوسائٹیوں کے باہر لمبی لائنوں میں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

کانگریس رہنما نے ہماچل پردیش کی کانگریس حکومت کی کسان دوست پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں قدرتی اور نامیاتی کھیتی کو فروغ دینے کے لیے کسانوں کو بہتر قیمت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں بھی ایسی پالیسیاں نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ قدرتی آفت سے متاثرہ کیلے کے کسانوں کے لیے 150 کروڑ روپے کا خصوصی راحتی پیکیج جاری کیا جائے۔ کیلے کی کاشت کرنے والوں کو موسم پر مبنی فصل بیمہ یوجنا کا فائدہ دیا جائے۔ سوسائٹی کے قرضوں کو مکمل طور پر معاف کیا جائے۔ گندم کی خریداری پر کیے گئے وعدے کے مطابق کسانوں کو بونس کی رقم ادا کی جائے۔ کھاد کی تقسیم میں نافذ ای ٹوکن اور آن لائن نظام کا جائزہ لے کر آسان طریقہ کار نافذ کیا جائے۔ سوسائٹیوں میں کافی مقدار میں ڈی اے پی اور یوریا دستیاب کرایا جائے۔

کنال چودھری نے کہا کہ اگر کسانوں سے جڑے ان مسائل پر حکومت جلد فیصلہ نہیں لیتی ہے، تو کانگریس پارٹی کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری ریاست میں تحریک چلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسان ریاست کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے مسائل کا حل محض اعلانات سے نہیں، بلکہ موثر پالیسی فیصلوں اور فوری راحتی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande