
نئی دہلی، 3 جون (ہ س)۔ کویت اور بحرین میں کل رات امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل حملے کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی پھر بڑھ گئی ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت آج 97 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ بھی 96 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔
اس ہفتے کے پہلے دو ٹریڈنگ سیشن میں ہی خام تیل کی قیمتیں تقریباً سات فیصد بڑھ چکی ہیں۔ ایران کی جانب سے آج امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے سے مغربی ایشیا میں دوبارہ جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کشیدگی سے خلیجی ممالک سے دنیا کے دیگر ممالک کو پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں خلل پڑنے کا بھی خطرہ ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت آج 96.65 ڈالر فی بیرل پر شروع ہوئی۔ ٹریڈنگ کے آغاز پر، اس کی قیمت کچھ وقفے کے لئے 96.58 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، لیکن پھر اس کی قیمت میں تیزی آئی۔ ہندوستانی وقت کے مطابق صبح نو بجے برینٹ کروڈ 97.16 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ نے 94.39 ڈالر فی بیرل پر تجارت شروع کی۔ ابتدائی طور پر، یہکچھ دیر کے لئے پھسل کر93.45 ڈالرفی بیرل پر آ گیا۔ اس کے بعد اس کی قیمت میں تیزی آئی ۔ ہندوستانی وقت ک مطابق صبح نو بجے ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 96.08 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کے ذریعے آئل ٹینکروں کی آمدورفت تقریباً رکی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات کا مستقبل بھی غیر یقینی ہے جس کا اثر بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر پڑنے کا امکان ہے۔
خاص طور پر گزشتہ رات کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل حملے نے کشیدگی میں نئے سرے سے اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اس خدشے کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل مئی میں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی تھی جس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی امید تھی۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان ابھی تک کسی معاہدے کا کوئی ٹھوس امکان نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد