تھانے میونسپل کارپوریشن کا جنتا دربار 6 جولائی کو، 22 جون تک درخواستیں طلب؛ صرف ایک ماہ سے زیر التوا معاملات کی ہوگی سماعت
تھانے میونسپل کارپوریشن کا جنتا دربار 6 جولائی کو، 22 جون تک درخواستیں طلب؛ صرف ایک ماہ سے زیر التوا معاملات کی ہوگی سماعت تھانے، 3 جون (ہ س) تھانے میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ جنتا دربار کے لیے اپنی درخواس
تھانے میونسپل کارپوریشن کا جنتا دربار 6 جولائی کو، 22 جون تک درخواستیں طلب؛ صرف ایک ماہ سے زیر التوا معاملات کی ہوگی سماعت


تھانے میونسپل کارپوریشن کا جنتا دربار 6 جولائی کو، 22 جون تک درخواستیں طلب؛ صرف ایک ماہ سے زیر التوا معاملات کی ہوگی سماعت

تھانے، 3 جون (ہ س) تھانے میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ جنتا دربار کے لیے اپنی درخواستیں مقررہ وقت کے اندر جمع کرائیں۔ ٹی ایم سی کے مطابق اگلا جنتا دربار 6 جولائی 2026 کو منعقد کیا جائے گا، جس میں شہریوں کے مختلف مسائل اور شکایات پر غور کیا جائے گا۔ میونسپل انتظامیہ کے مطابق خواہش مند شہریوں کو اپنی درخواستوں کی دو نقول 22 جون 2026 تک میونسپل کارپوریشن کی عمارت میں واقع اربن فیسلٹیز سینٹر میں جمع کرانی ہوں گی۔ ہر درخواست کے ساتھ فارم-1 (بی) منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ فارم اربن فیسلٹیز سینٹر سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ٹی ایم سی نے واضح کیا ہے کہ مہاراشٹر حکومت کے محکمہ عمومی انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق دسمبر 2012 سے جنتا دربار کے دن براہِ راست درخواستیں قبول کرنے کا نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے بجائے شہریوں کو اپنے نمائندگی نامے یا درخواستوں کی دو نقول جنتا دربار کے انعقاد سے کم از کم 15 دن قبل متعلقہ دفتر میں جمع کرانی ہوتی ہیں۔میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر میں منعقد ہونے والے اس جنتا دربار میں صرف انہی شہریوں کے معاملات کی سماعت کی جائے گی جنہوں نے پہلے ضلع جنتا دربار میں اپنی درخواست پیش کی ہو اور جن کے معاملات پر ایک ماہ گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہوئی ہو۔

کارپوریشن نے مزید کہا ہے کہ صدر دفتر میں درخواست جمع کراتے وقت شہریوں کے لیے ضلع جنتا دربار سے حاصل کردہ ٹوکن نمبر درج کرنا لازمی ہوگا۔ اس شرط کے بغیر درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا۔ تھانے میونسپل کارپوریشن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ ضوابط اور وقت کی پابندی کرتے ہوئے اپنی درخواستیں بروقت جمع کرائیں تاکہ ان کی شکایات اور مطالبات پر مؤثر انداز میں غور کیا جا سکے اور مناسب کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande