
آدتیہ ٹھاکرے نے خستہ حال عمارتوں کے مکینوں کی سلامتی کے لیے وزیر اعلیٰ کو لکھا خط
۔ ممبئی کی 82 انتہائی خطرناک عمارتوں پر تشویش کا اظہار
ممبئی، 3 جون (ہ س)۔ ممبئی میں خستہ حال اور انتہائی خطرناک قرار دی گئی عمارتوں میں رہنے والے شہریوں کی سلامتی کے مسئلے پر ورلی سے شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکنِ اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو مکتوب ارسال کرتے ہوئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ مانسون کے پیش نظر انہوں نے متاثرہ مکینوں کی جان و مال کے تحفظ اور رہائشی حقوق کی حفاظت کے لیے جامع اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
اپنے مکتوب میں آدتیہ ٹھاکرے نے کہا ہے کہ مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (مہاڈا) کی جانب سے 30 مئی 2026 کو جاری کردہ فہرست کے مطابق ممبئی کی 82 عمارتوں کو انتہائی خطرناک زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ ان عمارتوں میں رہنے والے متعدد خاندان کئی نسلوں سے وہاں آباد ہیں اور اب ان کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ آدتیہ ٹھاکرے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض مکان مالکان عمارتیں خالی کرانے کے عمل سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مکینوں پر دباؤ ڈالنے یا انتظامی کارروائیوں کے ذریعے انہیں بے دخل کرنے کی کوششیں بھی کی جا سکتی ہیں، اس لیے حکومت کو حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح، شفاف اور منصفانہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
انہوں نے اپنے خط میں مطالبہ کیا کہ انتہائی خطرناک عمارتوں میں رہنے والے تمام مکینوں کا باقاعدہ اور قانونی اندراج کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ بازآبادکاری یا کسی دوسری انتظامی کارروائی کے دوران ان کی جان و مال، روزگار اور رہائشی حقوق متاثر نہ ہوں۔ ورلی کے رکنِ اسمبلی نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ مانسون کی آمد سے قبل اس مسئلے پر ٹھوس فیصلہ کیا جائے تاکہ خطرناک عمارتوں میں مقیم ہزاروں شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور ان کی بازآبادکاری سے متعلق تمام حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں۔
آدتیہ ٹھاکرے نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کی حفاظت اور ان کے بنیادی رہائشی حقوق کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے، تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے قبل مناسب اقدامات کیے جا سکیں اور متاثرہ خاندانوں کو درپیش مشکلات کا بروقت حل نکالا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے