
ماسکو/کیف، 29 جون (ہ س)۔ یوکرین نے جارحانہ موقف اپناتے ہوئے روس پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ یوکرین کے ڈرون حملے میں روس کی آئل ریفائنری کو آگ لگ گئی۔ حملے کے چند گھنٹے بعد، اتوار کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سیکورٹی کو مضبوط بنانے اور چیلنجوں سے نمٹنے کا وعدہ کیا۔
ماسکو ٹائمز اور ٹی اے ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق، کیف ان حملوں کو فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرینی شہریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر روس کے روزروز ہونے والے حملوں کا جائز بدلہ سمجھتا ہے۔
پوتن نے یونائیٹڈ رشیا پارٹی کانگریس میں کہا، ہاں، ہم مسائل کودیکھ رہے ہیں۔ ہم ان سے آگاہ ہیں اور ہم ان کا جواب دے رہے ہیں۔ ہم یقینی طور پر ملک اور اپنے شہریوں کی سلامتی کے ساتھ ساتھ روس کی سرحدوں کی سالمیت کو یقینی بنائیں گے۔
پوتن کایہ بیان یوکرین کے ایک ڈرون حملے میں ایک شخص کی ہلاکت اور روس کے جنوبی کراسنوڈار علاقے میں ایک ریفائنری کو آگ لگانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔ علاقائی گورنر وینیمین کونڈراتیف نے اس کی اطلاع دی ۔کیف نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اسے روس کی جنگی صلاحیتوں کو کمزور کرنے والی کارروائیوں کا حصہ قرار دیاہے۔
زیلنسکی نے اتوار کو ایکسکو بتایا کہ کراسنوڈار کے علاقے میں سلاویانسک آئل ریفائنری پر حملہ کیا گیا۔ یہ مقام فرنٹ لائن سے تقریباً 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہم نے یاروسلاو کے علاقے میں ایک ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا، جو ہماری سرحد سے تقریباً 700 کلومیٹر دور ہے، زیلنسکی نے اتوار کو ایکس کو بتایا۔ پچھلے ہفتے، یوکرین کے حملے نے ماسکو کے جنوب مشرق میں ایک ریفائنری میں بڑے پیمانے پر آگ لگائی، جس سے دارالحکومت کا باہری رلاقہ دھوئیں سے بھرگیاتھا۔
روس کے زیر قبضہ کریمیا نے جزیرہ نما پر یوکرینی فضائی حملوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کو کم کرنے کے لیے جمعہ کو ایمرجنسی کی حالت کا اعلان کیا۔
یہ خطہ ایندھن کی قلت اور بجلی کی بندش سے دوچار ہے، یہ صورت حال کریمیا پر یوکرین کے حملے سے بڑھ گئی ہے، جسے روس نے 2014 میںاپنے ساتھ ملا لیا تھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی