
دمشق،29جون(ہ س)۔شام کی وزارتِ خارجہ نے جنوبی علاقوں القنیطرہ اور درعا میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔وزارت کے مطابق آج پیر کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی گولہ باری نے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلایا ہے اور یہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں، ساتھ ہی 1974 کے انخلاءمعاہدے (Disengagement Agreement) کی بھی خلاف ورزی کرتی ہیں۔شام نے خبردار کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔دمشق نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ان مسلسل خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کریں تاکہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا، جب اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی شام کے سکیورٹی زون میں ''مسلح افراد کو ختم کیا ہے ''اور کہا تھا کہ وہ اس علاقے میں کارروائیاں جاری رکھے گی۔اسرائیل نے 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد جنوبی شام میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی تھی، حتیٰ کہ وہ گولان کی پہاڑیوں کے غیر فوجی زون سے بھی آگے بڑھ گیا۔اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے حال ہی میں کہا تھا کہ اسرائیل جنوبی شام، جنوبی لبنان اور غزہ میں طویل مدت تک سکیورٹی زون میں موجود رہے گا تاکہ کسی بھی خطرے کو روکا جا سکے۔دوسری جانب شام اور اسرائیل کے درمیان ماضی میں ہونے والے مذاکرات کسی بھی سکیورٹی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan