
تل ابیب،29جون(ہ س)۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان ایک سینئر اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ اس سال ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے سائبر حملوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔اسرائیلی نیشنل سائبر سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرل یوسی کاراڈی نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے جون 2025ءمیں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران تقریباً 1600 دشمنانہ سائبر واقعات ریکارڈ کیے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جون 2026ءمیں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 4800 واقعات تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ گروہ انتہائی ماہرانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں. ہم ان سے نمٹ سکتے ہیں، لیکن ہمیں انہیں سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ روایتی فوجی میدان کے برعکس سائبر اسپیس میں جنگ بندی نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ حملے اسرائیل کے اہم بنیادی ڈھانچے، مرکزی تنظیموں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور افراد کے زیر استعمال سسٹمز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لائ فرمز اور اکاو¿نٹنگ کمپنیاں ان چھوٹے اداروں میں شامل ہیں جو حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ اب تک ہم اہم بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کو پسپا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم ایسا کرنے کے قابل رہیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اکثر معاملات میں یہ حملے ان کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز کو مٹانے پر ختم ہوتے تھے جنہیں ہیک کرنا آسان تھا تاہم انہوں نے کسی کمپنی کا نام نہیں لیا۔واضح رہے کہ ایران عام طور پر دوسرے ممالک پر سائبر حملے کرنے کی تردید کرتا ہے، جبکہ اپنے خلاف ہونے والے حملوں کا اعلان کرتا ہے۔گذشتہ برسوں کے دوران کئی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل نے بھی ایران پر کئی سائبر حملے کیے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan