امریکی ایرانی حالیہ کشیدگی کے بعد مسقط میں ہرمز کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد
مسقط،29جون(ہ س)۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے حالیہ امریکی ایرانی کشیدگی کے بعد... ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا کہ ان کے ملک کے ایک وفد نے مسقط میں ’آبنائے ہرمز مشترکہ کمیٹی‘ کا پہلا اجلاس منعقد کیا
امریکی ایرانی حالیہ کشیدگی کے بعد مسقط میں ہرمز کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد


مسقط،29جون(ہ س)۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے حالیہ امریکی ایرانی کشیدگی کے بعد... ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا کہ ان کے ملک کے ایک وفد نے مسقط میں ’آبنائے ہرمز مشترکہ کمیٹی‘ کا پہلا اجلاس منعقد کیا ہے۔ غریب آبادی نے آج پیر کے روز ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ مسقط کے دورے کے دوران ان کی ملاقات سلطنتِ عمان کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عبدالعزیز الہنائی سے ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک نے آبنائے سے متعلق موجودہ امور کا جائزہ لیا ہے۔نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ فریقین نے ’اسلام آباد مفاہمت نامے کے پانچویں پیراگراف کے فریم ورک کے اندر اور ساحلی ممالک کے خود مختار حقوق کے مطابق آبنائے کے مستقبل کے انتظام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے‘۔تہران سلطنتِ عمان کے ساتھ مل کر اس اہم تزویراتی آبی گزرگاہ کے انتظام کو سنبھالنے پر بضد ہے، جس سے اسے بڑی آمدنی ہو سکتی ہے۔ اس لیے کہ وہ بعد میں جہاز رانی کے انتظام کے بدلے مال بردار جہازوں پر سروس فیس کے نام سے ٹیکس عائد کرنے کا طریقہ کار تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔واضح رہے کہ 18 جون کو ایران اور امریکہ کے درمیان دستخط کیے گئے مفاہمت نامے میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ آبنائے کو کھولنا ضروری ہے اور جہازوں کو 60 دنوں تک بغیر کسی فیس یا رکاوٹ کے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس شرط پر کہ اس مدت کے دوران ایران، سلطنتِ عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان اس گزرگاہ کے انتظام کے لیے ایک طریقہ کار پر اتفاق کیا جائے گا۔امکان ہے کہ کل منگل کو دوحہ میں ایک تکنیکی مذاکراتی اجلاس منعقد ہو گا جس میں آبنائے کے معاملے پر بات چیت کی جائے گی، جس نے گزشتہ دو دنوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان جوابی حملوں کو جنم دیا تھا...اور اس نے دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے اور متوقع مذاکرات کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande