ترقی یافتہ ہندوستان-2047 کی تعمیر میں خواتین کا کردار سب سے اہم: جیوتی رادتیہ سندھیا
لکھ پتی دیدی اعزازی تقریب میں جدوجہد سے خوشحالی تک کی متاثر کن کہانیوں سے روبرو ہوئے مرکزی وزیر، خواتین کے کاموں کی ستائش کی گنا، 28 جون (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے مواصلات اور ترقیٔ خطۂ شمال مشرقی جیوتی رادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ خواب صرف دیکھنے ک
لکھ پتی دیدی اعزازی تقریب میں گروپ کی خواتین کے ساتھ سندھیا کی گروپ فوٹو


لکھ پتی دیدی اعزازی تقریب میں جدوجہد سے خوشحالی تک کی متاثر کن کہانیوں سے روبرو ہوئے مرکزی وزیر، خواتین کے کاموں کی ستائش کی

گنا، 28 جون (ہ س)۔

مرکزی وزیر برائے مواصلات اور ترقیٔ خطۂ شمال مشرقی جیوتی رادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ خواب صرف دیکھنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ انہیں شرمندۂ تعبیر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ہندوستان-2047 کی تعمیر میں خواتین کا کردار سب سے اہم ہے۔ اگر کسی کام کی ذمہ داری خواتین کو دی جائے تو وہ اسے مزید بہتر طریقے سے نبھاتی ہیں۔

مرکزی وزیر سندھیا اتوار کو مدھیہ پردیش کے گنا ضلع میں ’ججّی کی پنچایت ریسٹورنٹ‘ میں منعقدہ ’لکھ پتی دیدی اعزازی تقریب‘ کے ایک پروگرام کے تحت ’’جدوجہد سے خوشحالی تک: لکھ پتی دیدی کی متاثر کن اڑان‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے مختلف لکھ پتی دیدیوں سے گفتگو کر کے ان کی جدوجہد، کامیابی، روزگار کی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور انہیں مسلسل آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔

پروگرام میں سندھیا نے خواتین سے پوچھا کہ وہ روزگار مشن سے وابستہ کون کون سے کام کرتی ہیں۔ اس پر دیدیوں نے بتایا کہ اپنی دلچسپی کے مطابق مختلف کاروباری سرگرمیوں سے جڑ کر وہ اقتصادی طور پر خود کفیل بنی ہیں۔ مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ مسلسل کام کرتے رہنا، نئی مہارتیں سیکھنا اور ایک سے زیادہ کاروباری سرگرمیوں سے جڑے رہنا ہی ان کی ترجیح ہے۔ میناکشی دیدی نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں سے وہ روزگار کی سرگرمیوں سے منسلک ہیں اور اب تک تقریباً 1 کروڑ روپے کا ٹرن اوور کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی پوری ٹیم کے تعاون سے ملی ہے۔ ان کے ساتھ تقریباً 100 خواتین کام کر رہی ہیں۔ ان کا خواب اپنے بچوں کو اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھانا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے سلائی سمیت دیگر ہنر سیکھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہوائی جہاز میں سفر کرنے کا ان کا خواب بھی روزگار مشن سے جڑنے کے بعد پورا ہوا۔

کامنی دیدی نے بتایا کہ روزگار مشن سے جڑ کر وہ خود لکھ پتی دیدی بنیں اور کئی دوسری خواتین کو بھی خود کفیل بنایا۔ وہ مختلف ریاستوں میں جا کر دیدیوں کو ٹریننگ بھی دیتی ہیں۔ انہوں نے اپنی پڑھائی آگے بڑھائی اور اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک بیٹے کا سلیکشن اسکول برائے فوج (سینک اسکول) میں بھی ہوا ہے۔

ڈرون دیدی کرن اہیروار نے بتایا کہ سیلف ہیلپ گروپ (خود امدادی گروپ) سے جڑنے کے بعد انہوں نے ’کرشی سکھی‘ کے طور پر گوالیار اور اندور میں ٹریننگ حاصل کی۔ فی الحال وہ اسکوائر ٹرینر کے طور پر کام کر رہی ہیں اور جدید زرعی تکنیکوں کی ٹریننگ دے رہی ہیں۔

مرکزی وزیر سندھیا نے کہا کہ پروگرام میں انہوں نے جن خواتین کی کہانیاں سنیں، وہ ترقی یافتہ ہندوستان کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی خودمختاری خاندان، معاشرے اور ملک کی ترقی کی بنیاد ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ترقی یافتہ ہندوستان-2047 کے عزم کو پورا کرنے میں خواتین کا فیصلہ کن کردار ہوگا۔

انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے میناکشی دیدی کو سامان کی خریداری پر نقد رقم دینا چاہی تو انہوں نے نقد کے بجائے یو پی آئی سے ادائیگی کرنے کا اصرار کیا، جو ڈیجیٹل انڈیا کی کامیابی کی علامت ہے۔ انہوں نے کامنی دیدی کے ذریعے دوسری خواتین کو ٹریننگ دینے کی ستائش کرتے ہوئے اسے قابلِ تقلید بتایا اور کرن اہیروار کو مستقبل کے جدید ہندوستان کی خاتون قرار دیا۔ انہوں نے نامیاتی کھیتی کو فروغ دینے اور گاوں گاوں کسانوں کو اس کے لیے بیدار کرنے کی بھی اپیل کی۔

اس موقع پر ریاستی دیہی روزگار مشن کی جانب سے بتایا گیا کہ ضلع میں تقریباً 10,600 سیلف ہیلپ گروپ تشکیل دیے جا چکے ہیں۔ ان کے تعاون سے پانچ کینٹین، مڈ ڈے میل، سرکاری راشن کی دکانیں، مچھلی پروری، غیر زرعی روزگار کی سرگرمیاں، نرسری کا انتظام اور گو شالاوں میں گوبر سے مختلف مصنوعات تیار کرائی جا رہی ہیں۔ گروپوں کی خواتین کو باقاعدہ ٹریننگ دی جا رہی ہے اور ان کی مصنوعات کی فروخت کے لیے آن لائن پلیٹ فارم پر رجسٹریشن بھی کرایا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande