جو اپنی اصلاح نہیں کرسکتا، وہ قوم کی قیادت کا حق دار نہیں: مولانا محمود اسعد مدنی
جمعیةعلماءصوبہ دہلی و متحدہ میوات کے مثالی اضلاع کے ذمہ داران کا دو روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیرنئی دہلی، 27 جون(ہ س)۔ جمعیة علماءہند کے صدر حضرت مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا ہے کہ جو اپنی اصلاح نہیں کرسکتا، وہ قوم کی قیادت کا ح
جو اپنی اصلاح نہیں کرسکتا، وہ قوم کی قیادت کا حق دار نہیں: مولانا محمود اسعد مدنی


جمعیةعلماءصوبہ دہلی و متحدہ میوات کے مثالی اضلاع کے ذمہ داران کا دو روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیرنئی دہلی، 27 جون(ہ س)۔

جمعیة علماءہند کے صدر حضرت مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا ہے کہ جو اپنی اصلاح نہیں کرسکتا، وہ قوم کی قیادت کا حق دار نہیں۔ انھوں نے کہا کہ جمعیةعلماءہند اب ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں نام کی بنیاد پر نہیں بلکہ خدمت اور عملی کارکردگی کی بنیاد پر پہچان ملے گی۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ ہر مسئلے کے لیے مرکزی دفتر کی طرف دیکھنے کے بجائے مقامی سطح پر مضبوط، تربیت یافتہ اور باصلاحیت ٹیمیں تیار کی جائیں تاکہ گاو¿ں اور محلوں کی سطح پر ہی معاشرے کے مسائل کا مو¿ثر حل ممکن ہو سکے۔

مولانا مدنی نے یہ باتیں مدنی ہال مرکزی دفتر جمعیة علماءہند ، نئی دہلی میں دہلی اور متحدہ میوات کے مثالی اضلاع کے ذمہ داران کے لیے منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ 26 اور 27 جون کو منعقد ہونے والے اس ورکشاپ میں دہلی اور متحدہ میوات کے صوبائی ذمہ داران، مثالی اضلاع کے ذمہ داران اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کے انتظامی قیادت کی ذمہ داری مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صدر جمعیة علماءصوبہ دہلی نے انجام دی۔* *جب کہ الگ الگ نشستوں میں مولانا محمد یحیی کریمی ناظم اعلی جمعیة علماءہریانہ وپنجاب و ہماچل پردیش و دیگر حضرات نے صدارت کی۔

صدر جمعیةعلماءہند مولانا مدنی نے مزید کہا کہ مضبوط تنظیم صرف دستور یا دفاتر سے نہیں بلکہ کردار سازی، اجتماعیت، خود احتسابی اور تربیت یافتہ کارکنوں سے وجود میں آتی ہے۔ انہوں نے کارکنان کو تلقین کی کہ ایک اور ایک دو نہیں بلکہ گیارہ بنیں، ایک دوسرے کو آگے بڑھائیں، نئے افراد کو ذمہ داریاں دیں اور مقامی قیادت کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ تنقید سے گھبرانے کے بجائے اسے اپنی اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے، کیونکہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف ہی ترقی کی پہلی منزل ہے۔صدر جمعیة علماءہند نے گھریلو زندگی کے استحکام کو بھی ایک کامیاب سماجی کارکن کی بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی عزت و تکریم، باہمی احترام اور غلطی پر معذرت کرنے کا حوصلہ انسان کی شخصیت کو مزید باوقار بناتا ہے۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت دی کہ وہ روزانہ ایک مختصر ڈائری میں اپنے اہم مشاہدات، اہداف اور تنظیمی سرگرمیوں کو نوٹ کریں اور ہر مرحلے پر اللہ تعالیٰ سے دعا اور رجوع کا اہتمام کریں۔اس دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا افتتاح جمعیة علماءہند کے ناظمِ عمومی حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیة علماءہند کی اصل طاقت اس کے تربیت یافتہ، مخلص اور باکردار کارکنان ہیں، اس لیے تنظیمی تربیت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔۔ انہوں نے شرکاءپر زور دیا کہ وہ یہاں حاصل ہونے والی رہنمائی کو اپنے اضلاع تک پہنچا کر جمعیة علماءہند کے تنظیمی، تعلیمی، رفاہی اور اصلاحی پروگراموں کو مزید مو¿ثر بنائیں۔دارالعلوم دیوبند کے استاذ مفتی عمران اللہ نے جمعیة علماءہند کی تاریخ، خدمات اور اس سے وابستگی کی اہمیت پر نہایت مو¿ثر خطاب فرمایا۔ اس کے بعد مثالی مسجد کے موضوع پر مولانا محمد عمر قاسمی نے مسجد نبوی کو نمونہ قرار دیتے ہوئے مساجد کو عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ دینی، تعلیمی اور سماجی مرکز بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور مثالی مسجد کے بنیادی، معیاری اور اختیاری تقاضوں کی وضاحت کی۔

دو روزہ ورکشاپ میں جمعیة علماءہند کے مختلف شعبہ جات اور منصوبوں پر تفصیلی تربیتی پریزنٹیشنز پیش کئے گئے۔ شارف عبداللہ نے ماڈل ولیج، مولانا دلشاد قاسمی (پی ایم او، جمعیة علماءہریانہ) نے سدبھاو¿نا منچ، قاری عبد السمیع ناظم اعلی دینی تعلیمی بورڈ صوبہ دہلی نے دینی تعلیمی بورڈ، مولانا معظم عارفی اور مفتی سلیم احمد قاسمی ساکرس نے اصلاحِ معاشرہ اور پری میریج/نکاح کونسلنگ، ڈاکٹر شبیر مشتاق نے شعبہ خیر، مولانا دلشاد قاسمی نے درسِ قرآن، مولانا محمد قاسم نے شعبہ جیم، مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے جمعیة علماءہند کا تعارف، مفتی محمد سلمان دہلوی نے آسان اور سنت کے مطابق نکاح، مولانا محمد عمر قاسمی نے مثالی مسجد اور مولانا دلشاد قاسمی نے شعبہ رفیق کے حوالے سے پرزنٹیشن پیش کئے۔

ان پریزنٹیشن سے متعلق عملی ہدایات حافظ محمد یوسف (ناظم تنظیم، جمعیة علماءدہلی) ، مفتی حسام الدین قاسمی،مفتی انصار الحق قاسمی اور محمد عالم (گماٹ میوات) نے پیش کیں، جبکہ ائمہ مساجد کی ذمہ داریوں پر قاری محمد اسلم بڈیڈوی نے تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔ ہر سیشن کے بعد شرکاءکے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے گئے اور عملی رہنمائی کا اہتمام کیا گیا۔

ورکشاپ کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا محمد یحییٰ کریمی ناظم اعلی جمعیة علماءہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش، نائب صدر ماسٹر محمد قاسم، نائب صدر جمعیة علماءصوبہ دہلی قاری عبدالغفار اور نائب صدر مولانا محمد اخلاق قاسمی نے کی۔ تلاوتِ قرآن کی سعادت مولانا کفایت اللہ ندوی، مفتی ثاقب اور قاری محمد مشتاق لڈماکی نے حاصل کی، جبکہ نعتیہ کلام قاری محمد اسلم بڈیڈوی، قاری محمد مشتاق لڈماکی اور مفتی شفیق نے پیش کیا۔

اختتامی نشست میں مثالی اضلاع کے ذمہ داران نے اپنی اپنی کارکردگی پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ ضلعی سطح پر بھی اسی طرز کے تربیتی ورکشاپ منعقد کئے جائیں گے تاکہ جمعیة علماءہند کے تنظیمی، اصلاحی اور رفاہی پروگرام نچلی سطح تک زیادہ مو¿ثر انداز میں پہنچ سکیں- جبکہ نظامت کے فرائض مفتی سلیم احمد قاسمی ساکرس ناظم اعلیٰ اصلاح معاشرہ جمعیة علماءہریانہ، پنجاب وہماچل پردیش، جمعیةعلماءصوبہ دہلی کے ناظم اعلی مولانا افتاب عالم صدیقی وغیرہ نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ آخر میں صدر جمعیة علمائ صوبہ دہلی مولانا محمد قاسم نوری نے تمام مقررین، مہمانان اور شرکاءکا شکریہ ادا کیا، اور حضرت مولانا محمد اخلاق قاسمی کی دعا پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ ورکشاپ میں جمعیة علماءصوبہ دہلی کے نائب صدر مولانا مفتی خلیل احمد قاسمی و نائب صدر مولانا قاری محمد عارف قاسمی، ایڈیشنل جنرل سکریٹری مولانا قاری احرار الحق جوہر قاسمی وغیرہ بھی موجود رہے۔جمعیةعلماءہند کے ناظم تنظیم مولانا مفتی ذاکر حسین قاسمی نے اس موقع پر عزائم کی تفصیل حاصل کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande