ڈیجیٹل سروسز ٹیکس لگانے والے ممالک پر ٹرمپ کی100 فی صد کسٹم ڈیوٹی کی دھمکی
واشنگٹن،27جون(ہ س)۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی ایسے ملک سے آنے والی تمام اشیاءپر 100 فی صد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جائے گی جو امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس لگائے گا۔یہ دھمکی بحر اوقیانوس کے پار تجارتی کشیدگی میں شدت لا رہی ہ
ڈیجیٹل سروسز ٹیکس لگانے والے ممالک پر ٹرمپ کی100 فی صد کسٹم ڈیوٹی کی دھمکی


واشنگٹن،27جون(ہ س)۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی ایسے ملک سے آنے والی تمام اشیاءپر 100 فی صد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جائے گی جو امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس لگائے گا۔یہ دھمکی بحر اوقیانوس کے پار تجارتی کشیدگی میں شدت لا رہی ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یورپی یونین کے ممالک نے امریکی اشیاءپر ڈیوٹی کم کرنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ چار جولائی کی ڈیڈ لائن پر عمل کرنے کا عہد کیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کئی یورپی ممالک امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے والے ڈیجیٹل سروسز ٹیکس کے نفاذ کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں... اور ان میں سے کچھ ممالک اسے نافذ کرنے کے بہت قریب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بیان کو اس بات کی تصدیق سمجھا جائے کہ جو بھی ملک اس طرح کا ٹیکس عائد کرے گا، اسے امریکہ بھیجی جانے والی تمام اشیاءپر فوری طور پر 100 فی صد کسٹم ڈیوٹی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ ڈیوٹی امریکہ کے ساتھ موجود کسی بھی تجارتی معاہدے کی جگہ لے گی، چاہے وہ لاگو ہو، دستخط شدہ ہو یا دیگر۔ان معاہدوں میں وہ معاہدہ بھی شامل ہو گا جو امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان گذشتہ سال ہوا تھا۔ اس میں یورپی اشیاءپر امریکی ڈیوٹی کی حد 15 فی صد مقرر کی گئی تھی، جس کے بدلے یورپی یونین کے ممالک نے امریکی صنعتی اشیاءپر ڈیوٹی صفر کر دی تھی۔تاہم یورپی یونین کے اندر معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے قانون سازی کے طویل عمل نے ڈونلڈ ٹرمپ کو یورپی درآمدات، بشمول کاروں پر 25 فی صد کسٹم ڈیوٹی دوبارہ نافذ کرنے کی دھمکی دینے پر مجبور کیا۔یورپی یونین کے اداروں نے بعد میں چار جولائی تک ان تبدیلیوں کو نافذ کرنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن کی تعمیل کرنے میں جلدی کی۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے گذشتہ ہفتے جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل کہا کہ فرانس ان کے دباو¿ کے آگے نہیں جھکے گا اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عائد ڈیجیٹل سروسز ٹیکس کو منسوخ نہیں کرے گا۔ اس میں آن لائن مارکیٹس اور اشتہارات جیسی خدمات شامل ہیں۔فرانس میں سربراہی اجلاس کے لیے روانگی سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر پیرس نے ڈیجیٹل ٹیکس منسوخ نہیں کیا تو امریکہ کے پاس فرانسیسی شراب پر 100 فی صد ڈیوٹی عائد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔فرانس 2019 سے ان کمپنیوں پر اپنی سرزمین کے اندر ڈیجیٹل خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 3 فی صد ٹیکس عائد کر رہا ہے جن کی فرانس کے اندر آمدنی 2.5 کروڑ یورو اور عالمی سطح پر 75 کروڑ یورو (85.402 کروڑ ڈالر) سے تجاوز کر جاتی ہے۔ فرانسیسی قانون سازوں نے گذشتہ سال اس ٹیکس کو دو گنا کرکے 6 فی صد کرنے کی تجویز دی تھی۔امریکی تجارتی نمائندے کا دفتر طویل عرصے سے فرانس، برطانیہ، آسٹریا، اسپین اور دیگر یورپی ممالک کو ڈیجیٹل سروسز ٹیکس نافذ کرنے کی صورت میں جوابی ڈیوٹی عائد کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس موقف کے ساتھ کہ یہ ٹیکس ان امریکی کمپنیوں کے خلاف امتیازی سلوک ہے جو عالمی سطح پر اس شعبے میں غلبہ رکھتی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande