
تھانے، 27 جون (ہ س)۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوار دھڑے کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر جتیندر آوہاڑ نے الزام لگایا ہے کہ سنجے گاندھی نیشنل پارک کے حساس علاقے یور گاؤں کے جنگل میں محکمہ جنگلات کی جانب سے ایک بڑی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ کسی کو جنگلاتی زمین کا بڑا حصہ الاٹ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی جانوروں کی گزرگاہ والے جنگل میں اس طرح دیوار تعمیر کرنا کسی کے مفاد کے لیے کی جانے والی منصوبہ بندی معلوم ہوتی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر آوہاڑ نے صحافیوں کے ہمراہ یور میں زیر تعمیر دیوار کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جب اس بارے میں متعلقہ افسران سے معلومات طلب کی گئیں تو کوئی بھی افسر واضح جواب نہیں دے سکا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دیوار کے دونوں جانب یا اس کے آخری سرے پر کس کی زمین ہے، اس بارے میں بھی حکام کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔ اگر پوری زمین محکمہ جنگلات کی ملکیت ہے تو پھر اس کی تقسیم کے لیے دیوار کیوں تعمیر کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شاید اس دیوار کے ذریعے ان زمینوں پر دوسرے افراد کے حقوق کو محفوظ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں پہلے سے دیگر افراد کے نام درج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات کہیں یور کے جنگلات میں زمینوں کی تقسیم کا عمل تو شروع نہیں کر رہا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ دیوار کی تعمیر کے دوران راستے میں آنے والے متعدد چھوٹے بڑے درخت بھی خود محکمہ جنگلات نے کاٹ دیے ہیں تاکہ تعمیراتی کام آسانی سے ہو سکے۔
ڈاکٹر آوہاڑ نے کہا کہ تقریباً بیس سال قبل ایک نجی شخص نے اسی مقام پر دیوار تعمیر کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس وقت محکمہ جنگلات نے اسے منہدم کر دیا تھا۔ اب یہی محکمہ خود دیوار تعمیر کرکے متعلقہ زمین خالی کرانے کی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موقع پر موجود افسران غلط معلومات دے رہے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یور گاؤں نیشنل پارک کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایسا ہے تو یور آنے والے لوگوں سے داخلہ فیس کیوں وصول کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1995 کے ایک حکم کا حوالہ دے کر محکمہ جنگلات نجی افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے