وینیزویلا میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی، ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ
کاراکاس، 27 جون (ہ س): وینیزویلا میں اس ہفتے آنے والے دو شدید زلزلوں نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ عبوری صدر محترمہ جارج روڈریگیز نے جمعہ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ دوسری جان
وینیزویلا میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی، ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ


کاراکاس، 27 جون (ہ س): وینیزویلا میں اس ہفتے آنے والے دو شدید زلزلوں نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ عبوری صدر محترمہ جارج روڈریگیز نے جمعہ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی امدادی و ریسکیو ٹیمیں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے مسلسل امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فرانس کے سرکاری بین الاقوامی خبروں کے ٹیلی ویژن نیٹ ورک فرانس 24 اور دیگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق عبوری صدر نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ جیسے جیسے امدادی کارکن زیادہ متاثرہ علاقوں تک پہنچ رہے ہیں، ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہزاروں افراد کا اب بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے قائم کی گئی ایک ویب سائٹ پر تقریباً 50 ہزار افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع درج کی گئی ہے، تاہم اس تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی شام ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے۔ دارالحکومت کاراکاس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں واقع ساحلی شہر لا گوئیرا اور مورون سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں متعدد عمارتیں یکے بعد دیگرے منہدم ہو گئیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی حتمی تعداد 10 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے۔

روڈریگیز نے لا گوئیرا کو آفت زدہ علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ درجنوں عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں اور ریاست کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔ تقریباً 346 عمارتیں تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہوئی ہیں، جن میں آٹھ اسپتال اور وینیزویلا ریڈ کراس کا مرکزی دفتر بھی شامل ہے۔ کاراکاس کی خدمت کرنے والا سائمن بولیوار بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔

امدادی کارروائیوں میں تعاون کے لیے امریکہ، بھارت، میکسیکو، اسپین اور ایل سلواڈور سمیت کئی ممالک کی بین الاقوامی ریسکیو ٹیمیں وینیزویلا پہنچ چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ بدھ کی شام ایک منٹ کے وقفے سے آنے والے دو شدید زلزلوں کے بعد 50 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں۔ ان زلزلوں نے ملک کے شمالی حصے میں متعدد عمارتوں کو مکمل طور پر منہدم کر دیا۔

وینیزویلا میں ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے کے دوران آنے والا یہ بدترین زلزلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب تیل کی دولت سے مالامال یہ ملک گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ اس بحران نے اسپتالوں اور عوامی خدمات کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ سابق صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے چھ ماہ بعد بھی ملک ایک نازک عبوری مرحلے سے گزر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امدادی ادارے (او سی ایچ اے) نے کہا کہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے کم از کم 17 ممالک کی تلاش اور ریسکیو ٹیموں کو متحرک کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسی نوعیت کی شدت کے زلزلوں میں جنوری 2010 میں ہیٹی میں دو لاکھ سے زائد جبکہ اکتوبر 2005 میں بھارتی کشمیر میں 73 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

دوسری جانب وینیزویلا میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے غیر ملکی شہریوں میں 28 پرتگالی، پانچ ہسپانوی، دو برازیلی، سات چینی، ایک چلی کا شہری اور ایک اطالوی-وینیزویلا شہری شامل ہیں۔ متعلقہ حکومتوں کے مطابق 85 پرتگالی اور 119 ہسپانوی شہری اب بھی لاپتا ہیں یا ان کے بارے میں کوئی اطلاع دستیاب نہیں۔

یہ زلزلے وینیزویلا کی تاریخ کے اب تک کے شدید ترین زلزلے قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل سن 1900 میں سمندر میں 7.7 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande