ایران کے ڈرون اور میزائل ٹھکانوں پر امریکہ کا بڑا حملہ ،ایران کا جوابی کارروائی کا دعویٰ
واشنگٹن/ تہران، 27 جون (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 18 جون کو طے پانے والے امن معاہدے کو دس دن بھی نہیں گزرے ہیں کہ دونوں فریق ایک بار پھر ایک دوسرے کے خلاف نئے حملوں کی دھمکیاں اور دعوے کر رہے ہیں۔ امریکہ نے جمعہ کے روز ایران پر میزائل اور
ایران کے ڈرون اور میزائل ٹھکانوں پر امریکہ کا بڑا حملہ ،ایران کا جوابی کارروائی کا دعویٰ


واشنگٹن/ تہران، 27 جون (ہ س)۔

امریکہ اور ایران کے درمیان 18 جون کو طے پانے والے امن معاہدے کو دس دن بھی نہیں گزرے ہیں کہ دونوں فریق ایک بار پھر ایک دوسرے کے خلاف نئے حملوں کی دھمکیاں اور دعوے کر رہے ہیں۔ امریکہ نے جمعہ کے روز ایران پر میزائل اور ڈرون اڈوں اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے امریکی انتقامی کارروائی قرار دیا۔ دریں اثنا، پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے ایرانی ساحلوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران نے 25 جون کو آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے کارگو جہاز ایم وی ایور لولی پر ڈرون حملہ کیا۔سینٹ کام نے جمعہ کو ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات اور ساحلی ریڈار سائٹس پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا، اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ سینٹرل کمانڈ نے حملے کی فوٹیج جاری کی، جس میں حملے کی تفصیل ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایکس پر سینٹرل کمانڈ کا ایک بیان شیئر کیا، جس میں کہا گیا کہ تشدد کا مقابلہ تشدد سے کیا جائے گا۔ وینس نے لکھا، ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے، اور ہم نے اس پر عمل کیا، اگر انہیں اس معاہدے کے نفاذ پر کوئی اعتراض ہے تو وہ کال کرسکتے ہیں، لیکن تشدد کا مقابلہ تشدد سے کیا جائے گا۔

اس سے قبل جمعے کی سہ پہر وائٹ ہاو¿س میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ امریکہ ڈرون حملے کا کیا جواب دے گا یا وہ اب بھی جنگ بندی کا احترام کرتا ہے، لیکن یہ کہ انھوں نے کل حملہ کیا، اور انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ مال بردار جہاز پر حملہ اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ آبنائے ہرمز کے راستے سے گزر رہا تھا جس کی ایران نے اجازت نہیں دی تھی۔

میڈیا تنظیم ایران انٹرنیشنل کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے امریکہ پر مذاکرات اور جنگ بندی دونوں کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے مذاکرات کے دوران ایک بار پھر ایران پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح جنگ بندی کی یہ کھلم کھلا خلاف ورزی ان کی دستبرداری اور افسوس کے ساتھ ختم ہوگی۔

ان کا یہ بیان آئی آر جی سی کے اس دعوے کے بعد آیا ہے کہ اس نے علاقے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔ تاہم حملے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande