
تل ابیب،27جون(ہ س)۔العربیہ اور الحدث کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے 14 نکاتی فریم ورک معاہدے کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں، جس کا مقصد لبنانی محاذ پر جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔معاہدے کے مطابق غیر سرکاری مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیے جانے کی تصدیق کے بعد لبنانی مسلح افواج پورے لبنان میں اپنی عملداری بحال کریں گی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج مرحلہ وار لبنانی سرزمین سے انخلا کرے گی۔معاہدے میں لبنان نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ملک کی سلامتی، دفاع اور جنگ یا امن سے متعلق فیصلوں کی واحد ذمہ داری لبنانی ریاست اور اس کے سکیورٹی اداروں پر ہوگی۔معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کیا جاتا ہے ،تو اسرائیل کو جواب دینے کا حق حاصل ہوگا، جبکہ دونوں ممالک اس عزم کا اظہار کریں گے کہ وہ امن کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔اس کے علاوہ دونوں فریق ایک جامع امن معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیں گے۔
دریں اثنا لبنانی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک میں واضح طور پر مرحلہ وار ازسرِ نو تعیناتی کا ذکر ہے اور اس میں لبنان میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کو تسلیم کرنے کی کوئی شق شامل نہیں۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا حالیہ بیان فریم ورک معاہدے کے مسودے سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ اس سے آگے جاتا ہے۔لبنانی ذرائع نے مزید کہا کہ لبنانی فوج کی تعیناتی اسرائیل کی اجازت سے مشروط نہیں ہوگی، جبکہ آزمائشی علاقوں (پائلٹ زونز) کا قیام بھی دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہوگا، اسے صرف اسرائیل یکطرفہ طور پر طے نہیں کرے گا۔واضح رہے کہ امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان نے جمعہ کو ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جسے لبنانی محاذ پر جنگ بندی کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔یہ فریم ورک معاہدہ لبنانی اور اسرائیلی وفود کے درمیان امریکی محکمہ خارجہ کی میزبانی میں ہونے والے پانچ ادوار کے مذاکرات کے بعد طے پایا۔ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔دستخط کی تقریب کے دوران، جہاں امریکا، لبنان اور اسرائیل کے پرچم ایک ساتھ آویزاں تھے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا:ہم خودمختار لبنانی حکومت اور اسرائیلی حکومت کے درمیان امریکا کی ثالثی اور حمایت سے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ پائیدار امن اور سلامتی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ادھر واشنگٹن میں لبنان کی سفیر ندیٰ حمادہ معوض نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی وحدت کی بحالی، دشمنی کے مستقل اور حتمی خاتمے اور لبنانی عوام کی اپنے علاقوں میں واپسی کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔
اسرائیل کے سفیر یحیئیل لائٹر نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران اور حزب اللہ کو منظر سے باہر کر دیتا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان امن کی راہ کھولتا ہے۔واضح رہے کہ لبنان میں حالیہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کے اتحادی حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے۔حزب اللہ کا کہنا تھا کہ یہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردِعمل میں کیے گئے۔اس کے جواب میں اسرائیل نے وسیع فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں لبنانی حکام کے مطابق چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔فریم ورک معاہدے پر دستخط کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ دونوں کے درمیان اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کے پاس جنوبی لبنان سے بغیر کسی شرط کے انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا: سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے سکیورٹی زون میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، ہم اسے برقرار رکھیں گے۔امریکی ویب سائٹ ایکسیوس (Axios) کے مطابق فریم ورک معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج لبنان کے چند محدود علاقوں سے انخلا کرے گی۔
اس کی تصدیق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی کی۔ ان کے مطابق اسرائیل لبنانی فوج کو دو آزمائشی علاقوں میں کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دے گا، جن میں سے ایک مکمل طور پر سکیورٹی زون سے باہر اور دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع ہوگا، جبکہ دوسرا دریائے لیتانی کے شمال میں ہوگا۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کی قائم کردہ سکیورٹی زون سے بے گھر ہونے والے شہریوں کو نئے معاہدے کے تحت اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔لبنان اور اسرائیل کی حکومتوں نے اپریل میں براہِ راست مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جنہیں حزب اللہ نے متعدد بار مسترد کیا۔اگرچہ اس عرصے کے دوران کئی بار جنگ بندی کے اعلانات کیے گئے، لیکن زمینی صورتِ حال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔اسرائیل نے اپنے فضائی حملے اور زمینی پیش قدمی جاری رکھی، جبکہ حزب اللہ بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج اور بعض اوقات شمالی اسرائیل کو نشانہ بناتا رہا۔تاہم 17 جون کو ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بعد اس محاذ پر فوجی کارروائیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اس یادداشت میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ روکنے کی شق شامل تھی۔
دوسری جانب ایران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے کسی بھی حتمی معاہدے میں لبنان میں جنگ کے خاتمے کو شامل کیا جائے، جبکہ لبنانی صدر جوزف عون اپنے ملک کے معاملے کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ رکھنے کے خواہاں ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan