بورکینا فاسو کا فرانس کے ساتھ سفارت تعلقات منقطع کرنے کا اعلان
پیرس،27جون(ہ س)۔مغربی افریقا کے ملک بورکینا فاسو کی حکمراں فوجی کونسل نے سابق نو آبادیاتی طاقت فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے اور پیرس پر واگادوگو کے مفادات کے خلاف مسلسل کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ابراہیم تراوری کی قیادت می
بورکینا فاسو کا فرانس کے ساتھ سفارت تعلقات منقطع کرنے کا اعلان


پیرس،27جون(ہ س)۔مغربی افریقا کے ملک بورکینا فاسو کی حکمراں فوجی کونسل نے سابق نو آبادیاتی طاقت فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے اور پیرس پر واگادوگو کے مفادات کے خلاف مسلسل کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ابراہیم تراوری کی قیادت میں فوجی حکومت جس نے ستمبر 2022 میں فوجی بغاوت کے بعد اقتدار سنبھالا تھا، مغربی ممالک بالخصوص فرانس کے خلاف پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ وہ اندرون ملک اپوزیشن کے خلاف بھی سخت موقف رکھتی ہے۔

جمعے کے روز ملک کے سرکاری ٹیلی ویڑن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ بورکینا فاسو کی حکومت قومی اور بین الاقوامی برادری کو مطلع کرتی ہے کہ اس نے 26 جون 2026 سے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کونسل نے فرانس پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ نئے نو آبادیاتی عزائم رکھتی ہے جو تخریبی نیٹ ورکس اور دہشت گردوں کی فعال حمایت میں واضح طور پر نظر آتے ہیں، جو ہمارے ملک اور ساحل کے علاقے کو سوگ میں ڈبو رہے ہیں۔

دوسری جانب فرانس نے اس فیصلے کو دشمنی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بورکینا فاسو کے حکام کے تشویش ناک انحراف کی عکاسی کرتا ہے اور ضروری جوابی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔بورکینا فاسو اپنے بہت سے پڑوسی ممالک کی طرح القاعدہ اور داعش تنظیموں سے وابستہ شدت پسندوں کی جانب سے کیے جانے والے خونی حملوں کا شکار ہے۔

بیان کے مطابق یہ فیصلہ صرف سفارتی سطح پر دونوں ریاستوں کے درمیان تعلقات کے ادارہ جاتی ڈھانچے سے متعلق ہے۔کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کسی بھی صورت میں ان تاریخی، انسانی، ثقافتی اور سماجی روابط پر سوال نہیں اٹھاتا جو دونوں عوام کو آپس میں جوڑتے ہیں۔افریقا کے سابقہ نو آبادیاتی علاقوں میں فرانس مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں، جبکہ براعظم ایک بار پھر سفارتی کشمکش کا میدان بن رہا ہے اور روسی و چینی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande