
کراکاس، 25 جون (ہ س)۔ بدھ کی دیررات وینزویلا میں دو طاقتور زلزلے آئے، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے جمعرات کو کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اب تک 32 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے اور 700 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں سے مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں، اس لیے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ زلزلے کے بعد ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت وینزویلا کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے جمعرات کو کہا کہ چین ضرورت مند وینزویلا کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے بتایا کہ پہلا زلزلہ،بدھ کو شام ساڑھے چھ بجے (بھارتی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح:00 4بجے)، اس کی شدت 7.1 تھی۔ اس کے صرف ایک منٹ بعد، 7.5 کی شدت کے زیادہ طاقتورزلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ دونوں زلزلوں کے مرکز دارالحکومت کراکاس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں ساحلی شہر مورون کے قریب تھے۔ زلزلے کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر ہونے کی وجہ سے یہ انتہائی تباہ کنرہا۔
سب سے زیادہ نقصان شمالی وینزویلا کی ساحلی ریاست لا گویرا میں ہوا ہے، جسے حکومت نے ’ڈیزاسٹر زون‘ قرار دیا ہے۔ درجنوں عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور کئی علاقوں میں مواصلاتی رابطہ منقطع ہو رہا ہے جس کی وجہ سے بچاو¿ اور امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
دارالحکومت کراکاس کے گرد و نواح میں کئی منزلہ عمارتیں گر گئیں۔ امدادی کارکن ملبے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مقامی باشندوں نے اس منظر کو ایک ہارر فلم جیسا قرار دیا ہے۔
یو ایس جی ایس کے ابتدائی اندازوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے، جب کہ اپوزیشن کی حمایت یافتہ ویب سائٹ 6,600 سے زائد افراد کو لاپتہ قرار دے رہی ہے۔
حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ تمام اسکول اور غیر ضروری سرگرمیاں اگلے نوٹس تک معطل کردی گئی ہیں۔ بہت سے اسکولوں کو امدادی مراکز اور عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کراکاس میٹرو اور کچھ ریل خدمات کو بھی سیکورٹی وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔ قطر نے امدادی ٹیمیں بھیج دی ہیں جب کہ میکسیکو اور ایل سلواڈور سے بھی امدادی کارکن کی آمدمتوقع ہیں۔ ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا نے انسانی امداد روانہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وہیں، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان وینزویلا کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے جمعرات کو کہا کہ چین ضرورت کے وقت وینزویلا کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکا اس آفت میں مدد کے لیے تیار اور قابل ہے۔ وینزویلا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مشن نے حکومت سے سوشل میڈیا پر مقامی پابندیاں ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ کچھ علاقوں میں سوشل میڈیا کی رسائی پہلے ہی بحال کر دی گئی ہے۔
وینزویلا کی وزارت تعلیم نے کہا کہ کئی اسکولوں کو امدادی مراکز میں تبدیل کیا جائے گا اور سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ دیگر تعلیمی اداروں کو متاثرہ افراد کے لیے عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ عوامی تحفظ کی وجوہات کی بناءپر کراکاس میٹرو اور کراکاس کو مرانڈا اسٹیٹ سے ملانے والی ریلوے لائن پر خدمات بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔
تمام غیر ضروری سرگرمیاں بھی اس ہفتے کے باقی دنوں کے لیے روک دی گئی ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی