کینیا میں پولیس نے حکومت مخالف مظاہروں سے قبل دارالحکومت کے اطراف کی سڑکیں بند کر دیں
نیروبی، 25 جون (ہ س)۔ کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں پولیس نے 2024 میں حکومت مخالف مظاہروں کی دوسری برسی کے موقع پر ایک منصوبہ بند مظاہرے سے قبل جمعرات کو شہر کی طرف جانے والی بڑی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں ۔مذکورہ مظاہرہ میں کم از کم 60 افراد ہل
کینیا


نیروبی، 25 جون (ہ س)۔ کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں پولیس نے 2024 میں حکومت مخالف مظاہروں کی دوسری برسی کے موقع پر ایک منصوبہ بند مظاہرے سے قبل جمعرات کو شہر کی طرف جانے والی بڑی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں ۔مذکورہ مظاہرہ میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔آج مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرتے دیکھاگیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتولین کے لواحقین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے انصاف میں تاخیر اور متاثرین کو معاوضے کے عمل میں شفافیت نہ ہونے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے ابھی تک خاطر خواہ کارروائی نہیں کی۔

صدر ولیم روٹو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق ہے، لیکن حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اسکول، کاروبار اور عوامی زندگی معمول کے مطابق جاری رہے۔ انہوں نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ ملک کو معطل کرنے کی کوشش نہ کریں۔

وزیر داخلہ کپچمبا مرکومین نے کہا کہ پولیس پرامن مظاہرین کے ساتھ تعاون کرے گی لیکن مظاہروں کی آڑ میں تشدد یا لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

جمعرات کی صبح نیروبی کے آس پاس تمام اہم شاہراہوں پر پولیس کی تعیناتی بڑھا دی گئی اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں، جس سے بہت سی گاڑیوں کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ پارلیمنٹ کی عمارت کے ارد گرد بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی تھی اور احتیاط کے طور پر کئی دکانیں بند کر دی گئی تھیں۔

اپوزیشن رہنماوں نے مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے معاوضے کے پروگرام میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا۔ سابق نائب صدر کالونزو موسیوکا، سابق وزیر انصاف مارتھا کاروا اور سابق چیف جسٹس ڈیوڈ ماراگا سمیت متعدد رہنما، مقتول کے رشتہ داروں اور کارکنوں کے ساتھ مارچ میں شریک ہوئے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے ارد گرد کھڑی خاردار تاروں کے پاس خراج عقیدت پیش کیا۔

نیروبی پولیس کے سربراہ عیسیٰ محمد نے کہا کہ حفاظتی اقدامات کا مقصد امن و امان کو برقرار رکھنا اور ممکنہ مجرموں کی نشاندہی کرنا تھا، نہ کہ شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا۔ انہوں نے متعدد گرفتاریوں کی تصدیق کی تاہم تفصیلی اعداد و شمار بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

ادھر مقتولین کے اہل خانہ ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں۔ ایڈیٹ وانجیکو، جس کا 19 سالہ بیٹا، ابراہیم کماو¿، 2024 کے احتجاج کے دوران گولی مار کر ہلاک ہو گیا تھا، نے کہا کہ ان کے بیٹے کے بغیر زندگی انتہائی مشکل ہے اور خاندان اب بھی انصاف کی امید کر رہا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande