
نئی دہلی، 25 جون (ہ س)۔ بایوٹیک سیکٹر میں کام کرنے والی کمپنی ایوینس بایومیڈیکلز کے شیئروں نے آج اسٹاک مارکیٹ میں شاندار منافع کے ساتھ قدم رکھا اور اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کر دیا۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئروں 208 روپے فی شیئر کے حساب سے جاری کیے گئے تھے۔ آج این ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ 90 فیصد پریمیم کے ساتھ 395.20 روپے پر ہوئی۔ لسٹنگ کے بعد خریداری کا دباؤ بڑھنے کے باعث یہ شیئر کچھ ہی دیر میں اچھل کر 414.95 روپے کے اپر سرکٹ لیول تک پہنچ گیا۔ اس طرح پہلے ہی دن کے کاروبار میں آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی شیئر 206.95 روپے یعنی 99.50 فیصد کا منافع حاصل ہوا۔
ایوینس بایومیڈیکلز کا 30.24 کروڑ روپے کا آئی پی او 18 سے 22 جون کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست ردِعمل ملا، جس کے نتیجے میں یہ مجموعی طور پر 385.32 گنا سبسکرائب ہوا۔ ان میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز کے لیے مختص حصہ 196.77 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ اسی طرح نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز کے لیے مختص حصہ 597.23 گنا سبسکرائب ہوا، جبکہ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 401.36 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔
اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے مجموعی طور پر 14,53,800 شیئروں جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم کو کمپنی اپنے ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے اور عمومی کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔
کمپنی کی مالی حالت کی بات کی جائے تو کیپیٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس کے مطابق اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 24-2023 میں کمپنی کو 2.14 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل ہوا تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 7.23 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک کمپنی 5.74 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کر چکی تھی۔
اسی عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں کمپنی کی مجموعی آمدنی 24.37 کروڑ روپے تھی، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 45.97 کروڑ روپے ہو گئی۔ جبکہ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک کمپنی 41.94 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کر چکی تھی۔
اس دوران کمپنی کے قرض میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مالی سال 24-2023 کے اختتام پر کمپنی پر 15.13 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 22.16 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک کمپنی کا قرض بڑھ کر 26.73 کروڑ روپے ہو گیا تھا۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے یعنی سود، ٹیکس، فرسودگی اور ایمورٹائزیشن سے پہلے کی آمدنی، مالی سال 24-2023 میں 4.08 کروڑ روپے تھی، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 11.41 کروڑ روپے ہو گئی۔ جبکہ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 10.34 کروڑ روپے کے درجے پر تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد