وینزویلا میں زلزلے کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ کااعلان
ماسکو، 25 جون (ہ س)۔ وینزویلا کے قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے اپنی تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن زلزلے کے بعد ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ بدھ کی رات، امریکی جیولوجیکل سروے نے اطلاع دی کہ وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 کی شدت کے دو طاقتور
وینزویلا میں زلزلے کے بعد ایمرجنسی نافذ کر دی گئی


ماسکو، 25 جون (ہ س)۔

وینزویلا کے قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے اپنی تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن زلزلے کے بعد ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔

بدھ کی رات، امریکی جیولوجیکل سروے نے اطلاع دی کہ وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 کی شدت کے دو طاقتور زلزلے آئے۔ یہ زلزلے مورون شہر سے 16 کلومیٹر (9.9 میل) اور سان فیلیپ سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر آئے۔

روڈریگیز نے بدھ کی رات ایک ویڈیو پیغام میں کہا، ”ہم اپنے آئین کی دفعات کے مطابق ہنگامی حالت کا اعلان کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا کے مرکزی ہوائی اڈے،مائی کویٹیا کو بڑے پیمانے پر نقصان کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔

کچھ ریاستیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ دارالحکومت کراکاس کے کئی علاقوں میں عمارتیں گر گئیں۔ مرانڈا اور لا گوائرا کی ریاستوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے... ساتھ ہی اراگوا، کارابوبو اور فالکن ریاستوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دو زلزلوں کے بعد اب تک 20 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

روڈریگیز نے کہا، میں دنیا بھر کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے زلزلے کے فوراً بعد وینزویلا سے یکجہتی اور مدد کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق، امریکہ، پاناما، قطر، کیوبا، نکاراگوا، ترکی، اردن، کولمبیا، بارباڈوس، برطانیہ، برازیل اور میکسیکو نے فوری طور پر وینزویلا کی حمایت کا اظہار کیا۔ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے بھی وینزویلا کی حکومت سے رابطہ کیا اور قدرتی آفت کے نتائج سے نمٹنے میں مدد کے لیے آمادگی ظاہر کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande