
پونے ، 23 جون (ہ س) ۔ رواں سال جون کا مہینہ مہاراشٹر کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے کیونکہ مانسون کی سست رفتار کے سبب ریاست میں بارش کا طویل وقفہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 8 جون کو جنوبی مہاراشٹر میں داخل ہونے کے بعد مانسون کی پیش رفت تقریباً رک گئی ہے۔ بحیرۂ عرب میں ہواؤں کے کمزور پڑنے سے مانسون کی رفتار سست ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں ریاست میں اوسط کے مقابلے تقریباً 78 فیصد کم بارش درج کی گئی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر پونے شہر اور مغربی مہاراشٹر پر پڑا ہے۔پونے میں جون کے ابتدائی 20 دنوں کے دوران ایک بار بھی بارش ریکارڈ نہیں کی گئی۔ قبل از مانسون بارش بھی نہ ہونے کے باعث 1932 کے بعد یہ جون کا سب سے خشک مہینہ ثابت ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 2019 اور 2023 میں بھی مانسون تاخیر سے پہنچا تھا۔ ان برسوں میں مانسون 25 جون کو ممبئی پہنچا تھا، جبکہ 2009 میں اس کی آمد 21 جون کو ہوئی تھی۔ اسی طرح 1958 میں جون کا پہلا پندرہ روزہ مغربی مہاراشٹر کے لیے سب سے زیادہ خشک مدت کے طور پر درج کیا گیا تھا۔بارش نہ ہونے کے سبب کسانوں کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے اور خریف سیزن کی منصوبہ بندی بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پونے اور مغربی مہاراشٹر میں آئندہ دو دنوں کے دوران موسم میں کوئی خاص تبدیلی متوقع نہیں ہے، تاہم ماہرین نے 23 سے 25 جون کے درمیان مانسون کے دوبارہ سرگرم ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔گزشتہ سال جون کے پہلے ہی ہفتے میں مانسون نے دستک دی تھی اور اوسط سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی تھی، لیکن اس سال مانسون کی تاخیر کے باعث گزشتہ چھ برسوں میں سب سے زیادہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت درج کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے سبب شہریوں کے ساتھ ساتھ کسان بھی بارش کے منتظر ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے