میں بڑے مسائل حل کرنے کا ماہر ہوں، نیتن یاہو کے ساتھ معاملہ بھی شامل ہے : ٹرمپ
واشنگٹن،23جون(ہ س)۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس نہ بلانے کے مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے اس بات
میں بڑے مسائل حل کرنے کا ماہر ہوں، نیتن یاہو کے ساتھ معاملہ بھی شامل ہے : ٹرمپ


واشنگٹن،23جون(ہ س)۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس نہ بلانے کے مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجیں جنوبی لبنان میں موجود رہیں گی۔ ٹرمپ نے پیر کی شام صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں مسائل حل کرنے میں ماہر ہوں اور میں انہیں بہت تیزی سے حل کرتا ہوں، جس میں بی بی (نیتن یاہو) کے ساتھ معاملہ بھی شامل ہے۔اس سے قبل نیتن یاہو نے دوبارہ اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل کا لبنان کی سرزمین سے اپنی فوجیں نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز اور آرمی چیف کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوجیں فوجیوں اور شہریوں کو درپیش خطرات کو ختم کرنے، دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو منہدم کرنے اور جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون برقرار رکھنے کے لیے کام جاری رکھیں گی۔

نیتن یاہو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کے شہریوں اور اس کی افواج کی سکیورٹی وہ رہنما اصول رہے گا جس پر کوئی سمجھوتا قبول نہیں کیا جائے گا۔یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات شدید اتار چڑھاو¿ سے گزر رہے ہیں، جس کا آغاز ایران پر مشترکہ حملے کے بعد ابتدائی باہمی اعتماد سے ہوا تھا۔ اب یہ صورت حال چار ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے طریقوں پر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان عوامی اختلافات تک پہنچ چکی ہے۔خاص طور پر اس لیے کہ نیتن یاہو اور بہت سے اسرائیلیوں نے محسوس کیا کہ ٹرمپ نے گذشتہ بدھ کو ایران کے ساتھ جو مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے تھے، اس میں ایک ایسے ملک کو با اختیار بنانے کا خطرہ شامل تھا جسے وہ اسرائیل کا سخت ترین دشمن سمجھتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس سے حزب اللہ کی طرف سے آنے والے خطرات کا جواب دینے کی ان کی صلاحیت محدود ہو گئی ہے۔انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ امریکہ کے ساتھ اتحاد ... جس نے طویل عرصے سے اسرائیل کی تزویراتی حکمت عملی میں سنگِ بنیاد کی حیثیت رکھی ہے ... دباو¿ کا شکار ہوا ہے، کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں سے اسرائیل کے بارے میں امریکیوں کی بڑھتی ہوئی ناراضگی ظاہر ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن میں ان کا سب سے مضبوط محافظ بھی ان سے دور ہونا شروع ہو گیا ہے۔ایرانی فریق کے ساتھ معاہدے کی تشکیل کے بارے میں اپنے خدشات کے علاوہ، اسرائیلی اس بات پر بھی فکر مند تھے کہ ٹرمپ بضد ہیں کہ تل ابیب حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پر رضامند ہو۔ روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق وہ اس زبان کے بارے میں بھی پریشان تھے جو انہوں نے نیتن یاہو کی معاہدے کی مخالفت کے جواب میں استعمال کی۔

گذشتہ چند ہفتوں میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایک لعنتی دیوانہ قرار دیا اور اسرائیل کو یہ کہتے ہوئے سرزنش کی کہ جب بھی آپ کسی شخص کو تلاش کر رہے ہوں تو آپ کو ہر بار ایک اپارٹمنٹ کو مسمار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے عوامی طور پر اس امکان پر سوال اٹھایا کہ کیا شام سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی جگہ لے۔ٹرمپ کے نائب جے ڈی وینس نے بھی زیادہ تنقیدی لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ ٹرمپ اس وقت دنیا بھر میں واحد سربراہ مملکت ہیں جو ریاست اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ انھوں نے بعد کے بیانات میں مزید کہا کہ اسرائیل پر ہر تنقید کو یہود دشمنی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی سے نکلنے والی ایسی سخت آرائ اسرائیل کے بہت سے لوگوں میں خاص طور پر تشویش پیدا کر رہی ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ امریکی ڈیموکریٹس اسرائیل پر پچھلے سالوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلند آواز میں تنقید کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande